پاکستان پر 580 کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد، پی ایم عمران خان حواس باختہ!

جرمانہ سے پریشان عمران خان حکومت نے عالمی بینک کے انٹرنیشنل سنٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹ سے جرمانہ نہ وصولنے کی اپیل کی ہے۔ اس اپیل پر فی الحال انٹرنیشنل ٹریبیون غور و خوض کر رہی ہے۔

عمران خان
عمران خان
user

تنویر

انٹرنیشنل ٹریبیون نے پاکستان پر 580 کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے اور اس خبر نے وزیر اعظم عمران خان کی نیند اڑا کر رکھ دی ہے۔ پاکستان پر یہ جرمانہ اس لیے لگایا گیا ہے کیونکہ اس نے ایک آسٹریلیائی کمپنی سے کیا گیا معاہدہ توڑ دیا جس کے خلاف آسٹریلیائی کمپنی انٹرنیشنل ٹریبیون پہنچ گئی۔ اب پاکستان نے اپیل کی ہے کہ اس سے جرمانہ وصول نہ کیا جائے۔ ویسے بھی پاکستان کی معاشی حالت انتہائی دگر گوں ہے اور یہ جرمانہ ادا کرنا پاکستان کے لیے مصیبت کا پہاڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

ہندوستانی معیشت رواں سال 10.5 فیصد کی بڑی گراوٹ کی طرف گامزن


بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کی حکومت نے بلوچستان میں 'ٹیتھیان کاپر کارپ' نامی کمپنی کو لیز پر مائننگ کی اجازت دی تھی لیکن اس کانکنی پٹّہ کو پاکستان نے رد کر دیا۔ ٹیتھیان کمپنی میں آسٹریلیا کی کمپنی بیرک گولڈ کارپ اور چلی کی کمپنی 'انٹوپھگسٹو پی ایل سی' برابر کی پارٹنر ہیں۔ جب پاکستانی حکومت نے بلوچستان میں کانکنی پٹّہ کو رد کیا تو ٹیتھیان اس کے خلاف عالمی بینک پہنچ گئی۔ اس نے عالمی بینک کے انویسٹمنٹ جھگڑوں کے نمٹارے کے لیے مقرر انٹرنیشنل سنٹر میں پاکستان کی شکایت کی جس کے بعد اس سنٹر نے پاکستانی حکومت کو قصوروار مانا اور اس پر 5.8 بلین ڈالر یعنی 580 کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا۔

اس جرمانہ سے پریشان عمران خان حکومت نے عالمی بینک کے انٹرنیشنل سنٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹ سے جرمانہ نہ وصولنے کی اپیل کی ہے جس پر فی الحال انٹرنیشنل ٹریبیون غور و خوض کر رہی ہے۔ اگر یہ اپیل خارج ہوتی ہے تو پاکستان کو جرمانہ دینا ہی ہوگا۔ یہ رقم چونکہ پاکستانی جی ڈی پی کا تقریباً 2 فیصد ہے، اس لیے ادائیگی بہت آسان نہیں ہوگی۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ پاکستان بلوچستان علاقہ واقع ریکو ڈیک ضلع میں موجود گولڈ اور کاپر سمیت دوسری منرل وسائل کو اپنی اسٹریٹجک نیشنل پراپرٹی مانتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہاں دیئے گئے کانکنی پٹّے کو رد کرنے کا اسے اختیار ہے۔ حالانکہ جس آسٹریلیائی کمپنی ٹیتھیان سے پاکستان نے معاہدہ کیا تھا، اس کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ بلوچستان کے ریکو ڈیک میں 3.3 بلین امریکی ڈالر کے خرچ سے ایک عالمی درجہ کے گولڈ-کاپر کی اوپن مائننگ کا ہونا تھا لیکن پاکستان نے وعدہ توڑ دیا اور یہ پروجیکٹ پروان نہیں چڑھ سکا۔ اسی وعدہ خلافی کے لیے ٹیتھیان عالمی بینک کے انٹرنیشنل سنٹر پہنچی ہے۔

بہر حال، پاکستان نے جرمانہ نہ وصولے جانے کی گزارش کرتے ہوئے انٹرنیشنل سنٹر سے کہا ہے کہ اگر وہ یہ پنالٹی دیتا ہے تو اسے کورونا کے خلاف چل رہی جنگ میں بے انتہا دقتوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ ایک عالمی وبا ہے جس سے نبردآزمائی کے لیے کئی ممالک کو معاشی مدد درکار ہے۔

Published: 8 Sep 2020, 6:11 PM
next