ہندوستانی معیشت رواں سال 10.5 فیصد کی بڑی گراوٹ کی طرف گامزن

کورونا بحران کے دوران ملک کی جون سہ ماہی کی جی ڈی پی میں 23.9 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ ہندوستان کی جدید تاریخ میں یہ کسی سہ ماہی کی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: ریٹنگ ایجنسی فِچ نے امکانات ظاہر کیے ہیں کہ رواں مالی سال یعنی 2020-21 میں ہندوستانی معیشت میں 10.5 فیصد کی کمی واقع ہو سکتی ہے، اس کا مطلب ہے کہ جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 10.5 فیصد تک گر سکتی ہے۔

خیال رہے کہ کورونا بحران کے دوران ملک کی جون سہ ماہی کی جی ڈی پی میں 23.9 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ ہندوستان کی جدید تاریخ میں یہ کسی سہ ماہی کی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ مارچ میں عائد سخت لاک ڈاؤن کی وجہ سے معیشت کو اس زبردست گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ فیچ نے کہا، ’’معیشت کے دوبارہ کھلنے کے بعد اکتوبر سے دسمبر کی تیسری سہ ماہی میں جی ڈی پی میں بہتری آنی چاہیے، لیکن اس بات کے آثار ہیں کہ بہتری کی رفتار سست اور ناہموار ہوگی۔‘‘

غورطلب ہے کہ اپریل تا جون کی سہ ماہی میں ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار میں تقریباً 23.9 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے پیش نظر ماہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ معیشت کے لئے دوسرا ریلیف پیکیج جاری کیا جانا چاہیے۔ حکومت ایک اور بڑا امدادی پیکیج لاسکتی ہے لیکن یہ غالباً اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ کورونا ویکسین مارکیٹ میں نہیں آتی۔

پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی 26.90 لاکھ کروڑ روپے کی رہی جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ 35.35 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ اس طرح سے اس میں 23.9 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ سال اس عرصے کے دوران جی ڈی پی میں 5.2 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔

Published: 8 Sep 2020, 1:40 PM
next