عمران خان نے ہندوستانی سکھوں سے بولا جھوٹ؟ کرتار پور جانے کے لیے پاسپورٹ لازمی!

عمران خان نے یکم نومبر کو بذریعہ ٹوئٹر کرتارپور گرودوارہ جانے والے سکھوں سے کہا تھا کہ وہ پاسپورٹ کی جگہ کوئی شناختی کارڈ بھی دکھا سکتے ہیں، لیکن اب میجر جنرل غفور نے اس سے انکار کیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

آئی ایس پی آر (انٹر سیکورٹی پبلک رلیشنز) کے چیف میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ کرتار پور کوریڈور کے ذریعہ پاکستان کے پنجاب واقع کرتارپور صاحب گرودوارہ جانے کے لیے ہندوستانی سکھ زائرین کے پاس پاسپورٹ ہونا لازمی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک دیو کی 550ویں جینتی سے پہلے ہفتہ کے روز کرتارپور کوریڈور کا افتتاح کیا جائے گا۔

’دی ڈان‘ اخبار نے بدھ کے روز فوج کے میڈیا ونگ کے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل غفور کے بیان کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’سیکورٹی کے لحاظ سے داخلی عمل پاسپورٹ پر مبنی شناختی کارڈ کے تحت ہوگی۔ سیکورٹی کو لے کر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘‘ ان کا یہ بیان پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے اس اعلان سے بالکل مختلف ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ہندوستانی سکھ زائرین پاسپورٹ کی جگہ کوئی دوسرا شناختی کارڈ دکھا کر بھی کرتارپور گرودوارہ جا سکتے ہیں۔ اس لیے یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ عمران خان نے ہندوستانی سکھوں سے جھوٹ بولا، یا پھر میجر جنرل غفور کا بیان پاکستانی حکومت اور فوج کے درمیان موجود تلخیوں کا نتیجہ ہے۔

واضح رہے کہ بنیادی طور پر گرودوارہ دربار صاحب کے نام سے مقبول کرتارپور کوریڈور کے ذریعہ ہندوستانی سکھ عقیدت مند بغیر ویزا کے وہاں جا سکتے ہیں۔ گرودوارہ دربار صاحب سکھوں کے لیے پاکیزہ جگہ ہے، جہاں سکھ مذہب کے بانی گرونانک دیو نے اپنی زندگی کے آخری 18 سال گزارے تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا تھا۔ اس سال 12 نومبر کو گرو نانک دیو کی 550ویں جینتی کو یادگار بنانے کو لے کر اس کوریڈور کا قیام کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے یکم نومبر کو ٹوئٹر پر کرتارپور کوریڈور کے پورا ہونے کا اعلان کیا تھا او راس کے ساتھ ہی انھوں نے زائرین کو پاسپورٹ یا پھر پہلے سے رجسٹریشن کرانے کی ضرورت نہیں ہونے کی خوشخبری سنائی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ عقیدت مند اپنا کوئی بھی شناختی کارڈ دکھا کر کرتارپور گرودوارہ جا سکتے ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور کے بیان کے بعد ہندوستانی سکھوں میں تذبذب کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ اس کے پیش نظر ہندوستان نے پاکستان سے اس سلسلے میں واضح کرنے کے لیے کہا ہے کہ سکھ عقیدتمندوں کے لیے پاسپورٹ لازمی ہے یا نہیں۔ حالانکہ ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے احتیاط برتتے ہوئے عقیدتمندوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے ساتھ پاسپورٹ رکھیں تاکہ کسی طرح کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔