الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ پہنچے عمران خان

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں ای سی پی کے 3 رکنی بنچ نے متفقہ طور پر نااہلی ریفرنسز کو مسترد کر دیا جنہیں پی ٹی آئی کی جانب سے 20 ناراض ایم این ایز کے خلاف کمیشن کو بھیجا گیا تھا۔

عمران خان، تصویر آئی اے این ایس
عمران خان، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے ملک کی سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی ہے جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے 11 مئی کے اس اعلان کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں قومی اسمبلی کے 20 غیر مطمئن اراکین کے خلاف نااہلی کے ریفرنس کو خارج کر دیا گیا تھا۔ انگریزی روزنامہ ڈان نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے انتقال کے بعد پی ٹی آئی کے وکیل کے ذریعے پارٹی کے منحرف افراد کے خلاف صرف 19 اپیلوں کا ایک سیٹ پیش کیا گیا۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں ای سی پی کے تین رکنی بنچ نے متفقہ طور پر نااہلی ریفرنسز کو مسترد کر دیا جنہیں پی ٹی آئی کی جانب سے 20 ناراض ایم این ایز کے خلاف کمیشن کو بھیجا گیا تھا۔ انحراف کے لیے نااہلی کا اطلاق ان 20 ایم این ایز پر نہیں ہوتا جنہوں نے گزشتہ ماہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دیا تھا۔


ایک درخواست میں قومی اسمبلی میں موجودہ اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے حزب اختلاف کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) سے اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہوئے انتہائی غداری اورمکر و فریب سے کام لیا۔ انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف 8 مارچ کو پارلیمنٹ میں پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد میں بھی سرگرمی سے حصہ لیا۔

درخواست میں الزام لگایا گیا کہ ریاض نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی اور قانون اور آئین کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے دیگر ارکان کے ساتھ مل کر انحراف کی مہم چلائی جس سے جمہوریت، آئین، پارٹی اور عوام کو نقصان پہنچا۔


پی ٹی آئی کے صدر عمران خان نے ریاض کی مشکوک اور پی ٹی آئی مخالف سرگرمیوں پر 19 مارچ کو شوکاز نوٹس جاری کیا تاہم ریاض نے نوٹس لینے سے انکار کر دیا، ریاض پر الزام تھا کہ انہوں نے استعفیٰ دیئے بغیر دوسری پارلیمانی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ پی ٹی آئی اور ملک کے عوام کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کا حکم طے شدہ اصولوں کے مطابق نہیں تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔