کیا پاکستانی عوام کو ایک انڈے کی قیمت 30 روپے ادا کرنی پڑ رہی ہے!

پاکستان میں ادرک جہاں 1000 روپے کلو فروخت ہو رہی ہے، وہیں گیہوں 60 روپے فی کلو کی شرح سے بک رہا ہے۔ اس مہنگائی کے ماحول میں عوام کے لیے اپنی اشیائے ضروریہ کی خریداری بھی مشکل ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

ہندوستان میں اس وقت مہنگائی اپنے عروج پر ہے۔ لگاتار تیل اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی حالت انتہائی اونچے درجے پر پہنچی ہوئی ہے۔ ایک طرف تو پاکستانی عوام کورونا وائرس سے پیدا مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اور دوسری طرف خوردنی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں نے انھیں پریشان کر رکھا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان جب برسراقتدار ہوئے تھے تو انھوں نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ مہنگائی پر قابو پایا جائے گا، لیکن حالات مزید خراب ہوتے ہوئے معلوم پڑ رہے ہیں۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق عمران حکومت میں پاکستان کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ عوام کو ایک انڈے کی خریداری میں 30 روپے خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔ ٹھنڈ کے اس موسم میں اس قدر بڑھی قیمتوں میں انڈے خریدنا خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے لوگوں کے لیے کافی مشکل ہے۔ گویا کہ انڈے امیروں کے گھر کی شان بنتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ حالات اس قدر بدتر بتائے جا رہے ہیں کہ اگر کوئی ایک درجن انڈے خریدتا ہے تو اسے کچھ راحت نصیب ہوتی ہے کیونکہ اس کے لیے تقریباً 240 روپے دینے ہوتے ہیں۔ گویا کہ 20 روپے ایک انڈے کی قیمت ہوتی ہے۔ لیکن غریب افراد درجن کے حساب سے انڈے کیسے خرید پائیں گے۔

انڈوں کے ساتھ ساتھ دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی پاکستان میں بہت بڑھی ہوئی ہیں۔ ادرک جہاں 1000 روپے کلو فروخت ہو رہی ہے، وہیں گیہوں 60 روپے فی کلو کی شرح سے بک رہا ہے۔ ایسے ماحول میں لوگوں کے لیے اپنی ضرورت کی چیزیں خریدنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ مرغی کے گوشت یعنی چکن کی قیمت پاکستان میں 300 روپے فی کلو بتائی جا رہی ہے، جو کہ ہندوستان کی قیمت کے مقابلے تقریباً دوگنی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان میں چینی کی قیمت 100 روپے فی کلو سے زائد ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next