’پریس کی آزادی کو دبانے کے لیے اشتہارات کا استعمال نہ کریں‘، پاکستانی میڈیا کی حکومت سے اپیل

وفاقی اطلاعات کے وزیر فواد چودھری نے کچھ اعدادو شمار شیئر کئے تھے، جن میں دکھایا گیا تھا کہ پچھلی حکومت کی حکمرانی کے دور میں میڈیا کو کتنے اشتہارات جاری کئے گئے تھے۔

فواد چودھری، تصویر آئی اے این ایس
فواد چودھری، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

اسلام آباد: پاکستان کی میڈیا نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ پریس کی آزادی کو دبانے کے لئے اشتہارات کا استعمال کسی ہتھیار کے طور پر نہ کرے۔ دی نیوز انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ اور پاکستان براڈ کاسٹرس ایسوسی ایشن نے پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے نائب صدر اور وفاقی وزیر اطلاعات کے بیان پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے، جو گزشتہ حکومت کے وقت میں میڈیا کو اشتہار جاری کرنے سے متعلق ہے۔

اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ۔نواز کی لیڈر مریم نواز اعتراف کرچکی ہیں کہ انہوں نے اصل میں چینل 24، اے آر وائی نیوز، 92 نیوز، اور سما کو اشتہار نہ دینے کی ہدایت دی تھی۔ دی فرائیڈے ٹائمس نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں ان کے دیئے بیان کے حوالے سے کہا کہ ہاں میرا آڈیو (سماٹی وی کے الزامات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی لیک ہوئی آڈیو کلپ ان کی کہی گئی باتوں کا ہی ایک مجموعہ ہے) اصلی ہے۔ میں یہ نہیں کہوں گی کہ یہ میرے دیئے گئے الگ الگ بیانات کو جوڑ توڑ کر بنایا گیا ہے۔


اس کے بعد وفاقی اطلاعات کے وزیر فواد چودھری نے کچھ اعدادو شمار شیئر کئے تھے، جن میں دکھایا گیا تھا کہ پچھلی حکومت کی حکمرانی کے دور میں میڈیا کو کتنے اشتہارات جاری کئے گئے تھے۔ دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق، مریم نواز کے تبصرہ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پی پی این ایس نے ایک بیان میں کہا کہ جاری کئے گئے اعدادوشمار نے نہ صرف نامکمل ہیں بلکہ اس میں موجودہ حکومت کی طرف سے اشتہارات پر کئے جا رہے اخراجات کو بھی شامل نہیں کیا گیا ہے۔

بیان میں حکومت سے گزشتہ 20 برسوں میں میڈیا کو جاری کئے گئے اشتہارات کے اعداو شمار جاری کرنے کی بھی درخواست کی گئی۔ اے پی این ایس نے کہا کہ حکومت کو کبھی بھی اشتہارات کا استعمال ایسے ہتھیار کے طور پر نہیں کرنا چاہئے، جو خبروں کو متاثر کریں اور جس سے پریس کی آزادی میں رخنہ پڑے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔