پاکستان میں توہین رسالت کے نام پر بربریت، سری لنکن شہری کا پیٹ پیٹ کر قتل، لاش نذر آتش

عمران خان نے سیالکوٹ کے واقعہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ مشتعل گروہ کا ایک کارخانے پر گھناؤنا حملہ اور سری لنکن منیجر کا زندہ جلایا جانا پاکستان کے لیے ایک شرمناک دن ہے۔

تصویر بشکریہ ڈان ڈاٹ کام
تصویر بشکریہ ڈان ڈاٹ کام
user

قومی آوازبیورو

اسلام آباد: پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں توہین رسالت کے نام پر ایک نجی فیکٹری کے غیر ملکی منیجر کو پیت پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔ مقتول پریانتھا کمارا کا تعلق سری لنکا سے تھا اور اسے فیکٹری کے ورکز نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اتنا ہی نہیں شرپسندوں نے مقتول کی لاش کو بھی جلا دیا۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق پنجاب پولیس نے واقعہ کے مرکزی ملزم سمیت 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے۔

سری لنکائی شہری پر کئے جانے والے ہجومی تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کر دی گئی، جس میں ایک شخص کی جلتی ہوئی لاش کو دیکھا جا سکتا ہے، ویڈیو میں بڑی تعداد میں لوگ نظر آ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مقتول منیجر پر فیکٹری میں نصب کسی پوسٹ کی بے حرمتی کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔


رپورٹ کے مطابق سیالکوٹ واقعہ میں پولیس نے تشدد کرنے اور اشتعال انگیزی میں ملوث ملزمان میں سے ایک مرکزی ملزم فرحان ادریس کو گرفتار کر لیا ہے، پولیس کے بیان میں کہا گیا کہ 100 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ آئی جی پنجاب سارے معاملے کی خود نگرانی کر رہے ہیں، باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ کے واقعہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’سیالکوٹ میں مشتعل گروہ کا ایک کارخانے پر گھناؤنا حملہ اور سری لنکن منیجر کا زندہ جلایا جانا پاکستان کے لیے ایک شرمناک دن ہے۔ میں خود تحقیقات کی نگرانی کر رہا ہوں اور دوٹوک انداز میں واضح کر دوں کہ ذمہ داروں کو کڑی سزائیں دی جائیں گی۔ گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔‘‘


وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سیالکوٹ کی فیکٹری میں پیش آنے والے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ایک بیان میں عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔ ’قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔‘ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ قانون شکن عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ‘

وہیں، وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی حافظ طاہر اشرفی نے واقعے کو ’بربریت‘ کی مثال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی مجرم بھی ہے تو پاکستان میں توہین ناموس رسالت اور توہین مذہب اور مقدسات کا قانون بھی موجود ہے، اس کو عدالت میں، قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے، نہ کہ اسے پکڑ کر مار دیا جائے، اس کی لاش کو جلا دیا جائے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ’ یہ تو بربریت ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔