کیا شبانہ محمود بنیں گی برطانیہ کی پہلی مسلم وزیر اعظم؟ ’ایپسٹین فائلز‘ کے بعد پیدا حالات سے ہموار ہو رہی راہ

شبانہ محمود 45 سال کی ہیں اور پیشہ سے ایک وکیل ہیں۔ وہ لیبر پارٹی کی مضبوط اور پسندیدہ لیڈران میں شمار کی جاتی ہیں۔ وہ وزیر اعظم کیر اسٹارمر کی قریبی بھی ہیں اور پارٹی کے اندر ایک خاص پہچان رکھتی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>شبانہ محمود، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/RealAlexJones">@RealAlexJones</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

برطانیہ کی سیاست شدید بحران اور تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ وزیر اعظم کیر اسٹارمر کو لیبر پارٹی کے اندر ہی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس درمیان پارٹی کے اندر وزیر اعظم کے عہدے کے لیے شبانہ محمود کے نام پر گفتگو شروع ہو گئی ہے۔ وہ اس وقت برطانیہ کی وزیر داخلہ (ہوم سکریٹری) ہیں۔ اگر حالات بدلتے ہیں تو وہ برطانیہ کی پہلی مسلم وزیر اعظم بن سکتی ہیں۔

اس سیاسی بحران کی ایک بڑی وجہ امریکہ میں جاری ہونے والی ’ایپسٹین فائلز‘ ہے۔ ’ایپسٹین فائلز‘ میں کیر اسٹارمر کی جانب سے مقرر کردہ سفیر پیٹر منڈیلسن کا نام آنے سے اسٹارمر پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ لیبر پارٹی کے بیشتر اراکین پارلیمنٹ اسٹارمر سے ناراض ہیں۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ برطانیہ میں اس وقت لیبر پارٹی کی حکومت ہے، جس کے پاس ہاؤس آف کامنز کی 650 میں سے 404 نشستیں ہیں۔


جہاں تک شبانہ محمود کا سوال ہے، وہ 45 برس کی ہیں اور پیشہ سے ایک وکیل ہیں۔ انہیں لیبر پارٹی کی مضبوط اور پرعزم رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ وزیر اعظم کیر اسٹارمر کی قریبی تصور کی جاتی ہیں اور پارٹی کے اندر ایک مؤثر مقرر کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔ نظریاتی طور پر انہیں لیبر پارٹی کے مقابلے میں قدرے دائیں بازو یعنی رائٹ ونگ گروپ سے وابستہ مانا جاتا ہے۔

شبانہ برمنگھم لیڈی وُڈ نشست سے لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ہیں۔ ان کی پیدائش 1980 میں برمنگھم میں ہوئی۔ ان کی پرورش یہاں اپنے جڑواں بھائی کے ساتھ ہوئی۔ شبانہ کا خاندان پاکستان کے زیر انتظام کشمیر واقع میرپور سے تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے 2002 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے لنکن کالج سے قانون کی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد 2003 میں انہوں نے اِنز آف کورٹ اسکول آف لا سے بار ووکیشنل کورس کیا اور بیرسٹر بنیں۔ 2010 میں شبانہ محمود پہلی بار برطانیہ کی پارلیمنٹ پہنچیں۔ وہ رشانا را علی اور یاسمین قریشی کے ساتھ برطانیہ کی پہلی مسلم خاتون اراکین پارلیمنٹ میں شامل ہوئیں۔ رفتہ رفتہ انہوں نے پارٹی کے اندر اپنی مضبوط شناخت قائم کی۔ 2025 میں انہیں برطانیہ کی وزیر داخلہ مقرر کیا گیا۔


شبانہ محمود کی شناخت ایک طرف مسلم برادری سے وابستہ رہنما کے طور پر ہے، جس کے ذریعے وہ مسلم اور پرو-فلسطین حامیوں تک رسائی بنا سکتی ہیں، تو دوسری طرف ان کی پالیسیاں، خاص طور پر امیگریشن کے معاملے میں، کافی سخت رہی ہیں۔ وزیر داخلہ کے طور پر انہوں نے مستقل رہائش یعنی سیٹلمنٹ یا انڈیفنٹ لیو ٹو ریمین کے قواعد کو سخت کرنے کی تجویز پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں مستقل رہائش کوئی حق نہیں بلکہ ایک خصوصی سہولت ہے۔

شبانہ کے وزیر اعظم بننے کے لیے ضروری ہے کہ کیر اسٹارمر استعفیٰ دیں یا لیبر پارٹی کے اندر قیادت کے چیلنج کے ذریعے ہٹا دیے جائیں۔ اس کے لیے کم از کم 81 لیبر اراکین پارلیمنٹ کی حمایت درکار ہوگی۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ شبانہ محمود اس موقعے کو کس حد تک آگے بڑھا پاتی ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔