’لبنان میں اسرائیلی حملے پر وزیر اعظم نریندر مودی خاموش کیوں؟‘ جے رام رمیش نے اٹھایا سوال
جے رام رمیش نے پی ایم مودی کے متعلق ’ایکس‘ پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’’کیا ان کے لیے نام نہاد فادر لینڈ ان کے اصل مدرلینڈ سے کہیں زیادہ اہم ہے؟‘‘

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا – اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔‘‘
جے رام رمیش اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔‘‘
کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔ حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، وہ وزیر اعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’’کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لیے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے؟‘‘
قابل ذکر ہے امریکی میڈیا کی ایک خبر میں کہا گیا کہ پیر کو ٹرمپ نے نیتن یاہو سے فون پر بات چیت کے دوران لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائی کو لے کر انہیں پھٹکار لگائی۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ ’’آپ بالکال پاگل ہو گئے ہیں۔ اگر میں نہ ہوتا تو آپ جیل میں ہوتے۔ میں آپ کی جان بچا رہا ہوں۔ آپ کی وجہ سے ہر کوئی اسرائیل سے نفرت کرتا ہے۔‘‘
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
