اٹلی میں کیوں بھڑک اٹھی احتجاج کی آگ؟ آئیے عوام کے مطالبات، پولیس کی کارروائی اور وزیر اعظم کا جواب جانیں

جمعہ کو اٹلی کے 40 سے زائد شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے بہتر تنخواہ، اچھی عوامی سہولیات اور عام لوگوں کو مہنگائی سے راحت دینے کا مطالبہ کیا۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

اٹلی میں بڑھتی مہنگائی، مہنگے کرایوں اور تعلیم پر کم خرچ کے خلاف ہزاروں طلبہ، مزدور اور ٹریڈ یونین کے اراکین سڑکوں پر اتر آئے۔ جمعہ (30) اکتوبر کو ملک کے 40 سے زائد شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے بہتر تنخواہ، اچھی عوامی سہولیات اور عام لوگوں کو مہنگائی سے راحت دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم جارجیا میلونی کی حکومت کی جانب سے فوجی اخراجات میں اضافے کی پالیسی اور جنگ زدہ علاقوں میں ہتھیار بھیجنے کے لیے بندرگاہوں کے استعمال کی بھی مخالفت کی۔

ملک گیر مظاہرے ٹریڈ یونین ’یونی اون سنڈاکیل ڈی بیس‘ (یو ایس بی) کی جانب سے بلائی گئی گئی 24 گھنٹے کی ہڑتال کا حصہ تھے۔ بیشتر مقامات پر مظاہرے پرامن رہے، لیکن بعض شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس نے کئی مقامات پر واٹر کینن کا استعمال کیا۔ اٹلی کی خبر رساں ایجنسی ’اے این ایس اے‘ کے مطابق پارلیمنٹ کی جانب بڑھ رہے ہجوم کو روکنے کے دوران 8 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔


اس تحریک میں طلبہ نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ وہ طویل عرصے سے تعلیم کے لیے زیادہ سرکاری بجٹ مختص کرنے، مہنگی فیس کم کرنے اور سستے ہاسٹل فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اٹلی کے کئی شہروں میں طلبہ اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں مظاہرے کر چکے ہیں۔ روم میں 21 سالہ یونیورسٹی کی طالبہ بیٹریس چلیلی نے خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ سے کہا کہ طلبہ مہنگی فیس اور کرایہ ادا نہیں کر پا رہے ہیں، جس کا بوجھ ان کے والدین پر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق روم میں طلبہ کی رہائش کے لیے ایک کمرے کا کرایہ ماہانہ 1200 یورو تک پہنچ سکتا ہے۔

ملک کی راجدھانی روم میں ہزاروں مظاہرین نے سنٹرل ٹرمینی ریلوے اسٹیشن سے مارچ شروع کیا تھا۔ اس جلوس میں 2 ٹریکٹر اور ایک ٹیکسی بھی شامل تھے۔ مظاہرین پرچم اور بینر اٹھائے کولوسیم کے قریب سے گزرے۔ وہ نعرے لگاتے ہوئے حکومت سے اپنے مطالبات پورے کرنے کی اپیل کر رہے تھے۔ مظاہرے کے دوران ایک گروپ نے نعرہ لگایا ’ہمیں بم نہیں، زیادہ گھر چاہئیں‘۔ بعض مظاہرین نے غزہ میں بمباری کے دوران خوفزدہ شہریوں کی صورتحال دکھانے کے لیے ایک مختصر ڈرامائی مظاہرہ بھی کیا۔


بندرگاہ والے شہر جینوا میں بھی بڑا مظاہرہ ہوا تھا۔ یہاں بندرگاہ کے تقریباً 15 ہزار ملازمین، طلبہ اور دیگر مظاہرین بندرگاہ کے علاقے میں پہنچ گئے تھے۔ ان کا احتجاج صرف مہنگائی اور تنخواہوں تک محدود نہیں تھا۔ وہ جنگ زدہ علاقوں میں ہتھیاروں کی کھیپ بھیجنے کے لیے تجارتی بندرگاہوں کے استعمال کی بھی مخالفت کر رہے تھے۔ مظاہرین نے خلیجی خطے سے لے کر بحیرہ اسود تک جاری تنازعات میں پھنسے ملاحوں کی ہلاکتوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارتی بندرگاہوں کا استعمال جنگ میں ہتھیار بھیجنے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔

میلان میں مظاہرے کا آغاز سنٹرل ریلوے اسٹیشن سے ہوا تھا۔ اس کے بعد مظاہرین شہر کے بیرونی حصے کی جانب بڑھ گئے تھے۔ پولیس نے اس بار جلوس کو شہر کے اس علاقے سے دور رکھا، جہاں 2 ہفتے قبل مہنگائی کے خلاف مظاہرے کے دوران نوجوانوں نے دکانوں میں لوٹ مار کی تھی، املاک کو نقصان پہنچایا تھا اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں کی تھیں۔


قابل ذکر ہے کہ اٹلی میں حالیہ ہفتوں کے دوران مہنگائی اور تعلیم کے مسائل پر مسلسل مظاہرے ہو رہے ہیں۔ 17 اور 18 اکتوبر کو میلان میں نوجوانوں اور پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئی تھیں۔ اس دوران بعض مظاہرین نے دکانوں میں لوٹ مار کی اور املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔ اس کے بعد وزیر اعظم جارجیا میلونی کی دائیں بازو کی حکومت نے عوامی مظاہروں سے متعلق قوانین سخت کر دیے۔ اس کے ساتھ ہی نابالغوں کو حراست میں لینے کے ضوابط میں بھی سختی کر دی گئی۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان ٹرک ڈرائیوروں، کسانوں اور ماہی گیروں کو راحت دینے کے لیے اٹلی کی حکومت نے گزشتہ ہفتے 175.2 ملین یورو (تقریباً 195 ملین ڈالر) کے امدادی پیکیج پر اتفاق کیا تھا۔ مغربی ایشیا میں جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو اس امدادی پیکیج کی وجہ بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کے 2027 کے مجوزہ بجٹ میں نوجوانوں اور خاندانوں کے لیے بھی کچھ منصوبے شامل کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ ان میں 30 سال سے کم عمر ملازمین کو ہر سال 2500 یورو بونس دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔


وزیر اعظم جارجیا میلونی نے 28 اکتوبر کو پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ حکومت کی تجاویز نوجوانوں کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’مجھے امید ہے کہ اس سے عمومی طور پر ان نوجوانوں کو جواب مل سکے گا، جنہیں لگتا ہے کہ حکومت ان کی پرواہ نہیں کرتی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے مجوزہ راحت ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جو دکانوں کے شیشے توڑتے ہیں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔