مظاہرے کی زد میں یورپ: اٹلی، فرانس، البانیہ، اسپین اور پرتگال میں حکومت سے ناراض عوام کا مظاہرہ ہنوز جاری
البانیہ، اٹلی اور فرانس میں مظاہروں کے پیچھے الگ الگ مقامی وجوہات ہیں، لیکن مہنگائی، ایندھن کی بلند قیمتیں، رہائش کا بحران اور سرکاری خدمات کے حوالے سے عدم اطمینان کئی مقامات پر اہم مسائل بنے ہوئے ہیں

بڑھتی مہنگائی، مہنگے گھر اور سرکاری خدمات کی بگڑتی صورتحال کے خلاف یورپ میں لوگوں کا غصہ سڑکوں پر پھوٹ رہا ہے۔ فرانس، اٹلی اور البانیہ میں احتاجی مظاہروں کے درمیان گرفتاریوں سے لے کر تشدد تک کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری جانب اسپین اور پرتگال میں گھروں کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف لوگ خیمے لگاکر احتجاج درج کرا رہے ہیں۔ البانیہ کی راجدھانی تیرانا میں حکومت مخالف مظاہرے مسلسل آٹھویں روز بھی جاری رہے۔ اٹلی میں تشدد اور لوٹ پاٹ کے واقعات کے بعد حکومت نے سخت حفاظتی قوانین کو منظوری دی ہے۔ دوسری جانب جنوبی اٹلی میں ٹرک ڈارائیوروں کی ہڑتال سے سپر مارکیٹ اور پٹرول پمپوں پر سامان کی قلت ہونے لگی ہے۔ ہفتے کے آخر میں ہوئے تشدد کے بعد فرانس کے کئی شہروں میں کرفیو کی مدت بڑھا دی گئی ہے۔
البانیہ کی راجدھانی تیرانا میں منگل (20 اکتوبر) کو پولیس نے حکومت مخالف مظاہرین کو پیچھے ہٹانے کے لیے آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ احتجاج مسلسل آٹھویں روز بھی پرتشدد رہا۔ احتجاج میں ہائی اسکول اور یونیورسٹیوں کے طلبہ بھی شامل ہو گئے ہیں۔ وہ ٹیوشن فیس میں کمی، تعلیم پر سرکاری سرمایہ کاری بڑھانے اور تعلیمی نظام میں بدعنوانی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی حکومت مخالف وسیع تحریک کے تحت سوشلسٹ وزیر اعظم ایڈی راما سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
البانیہ کے وزیر اعظم ایدی راما نے منگل کو طلبہ اور تیرانا کے اسکولوں کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد مظاہرین پر تشدد کے ذریعہ حکومت کو گرانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی مسائل کو کچھ لوگ جان بوجھ کر تشدد پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مہنگائی، محفوظ مستقبل، گھر اور بہتر مواقع سے متعلق خدشات حقیقی ہیں۔
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی حکومت نے منگل کو سیکورٹی سے متعلق کئی سخت اقدامات کی منظوری دی۔ ان میں احتجاج کے دوران پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کو نیا جرم قرار دینا، فسادات کے لیے سخت سزائیں اور توڑ پھوڑ یا لوٹ مار میں ملوث نابالغوں کے والدین کو مالی طور پر ذمہ دار ٹھہرانے کا التزام شامل ہے۔ یہ فیصلہ ہفتے کے آخر میں شمالی اٹلی کے کئی شہروں میں ہونے والے تشدد کے بعد لیا گیا۔ مالیاتی مرکز میلان میں نوجوانوں کے گروہوں نے دکانوں کے شیشے توڑے، لوٹ مار کی اور پولیس پر حملے کیے تھے۔ میلونی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ توڑ پھوڑ اور چوری کو احتجاج نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ مجرمانہ سرگرمیاں ہیں۔ نئے قوانین کے تحت کم از کم 5 افراد کے گروپ میں احتجاج کے دوران عوامی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والوں کو 5 سال تک قید اور زیادہ سے زیادہ 20 ہزار یورو جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ چہرہ چھپانے یا کسی کے زخمی ہونے کی صورت میں سزا مزید سخت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اٹلی میں تشدد جاری، میلونی حکومت نے لاگو کئے سخت قوانین
فرانس میں ہفتے کے آخر میں ہونے والے تشدد، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے بعد کئی شہروں میں کرفیو کی مدت بڑھا دی گئی ہے۔ پیرس میں مقامی حکام نے مسلسل دوسری رات پابندیاں نافذ کیں۔ لوگوں کو مقررہ اوقات کے دوران سڑکوں پر گھومنے یا عوامی مقامات پر رکنے سے روک دیا گیا۔ ’فرانس انفو‘ کے مطابق پیرس پولیس پری فیکچر نے منگل کی رات 11 بجے سے بدھ کی صبح 6 بجے تک کرفیو کا دائرہ بڑھا کر پلاس دی لا ریپبلک اور لیس ہالس علاقے کے کچھ حصوں کو بھی اس میں شامل کر لیا۔ ہفتے کے آخر میں فرانس میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور تشدد بھی ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز لاکھوں افراد سڑکوں پر اتر آئے تھے اور ملک کو کئی برسوں کی بدترین بدامنی میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا۔
قابل ذکر ہے کہ البانیہ، اٹلی اور فرانس میں احتجاجی مظاہروں کے پیچھے الگ الگ مقامی وجوہات ہیں، لیکن مہنگائی، ایندھن کی بلند قیمتیں، رہائش کا بحران اور سرکاری خدمات کے حوالے سے عدم اطمینان کئی مقامات پر اہم مسائل بنے ہوئے ہیں۔ اسپین اور پرتگال میں بھی مہنگی رہائش کے خلاف احتجاج کے لیے خیمے لگائے گئے ہیں۔ دوسری جانب یونان میں منگل کی شام اور بدھ کو ریلیوں اور احتجاجی مظاہروں کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
