وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری میں شامل امریکی جوان پر امریکی پولیس نے کیوں کی سخت کارروائی؟

ڈائک نے تقریباً 32,000 ڈالر کی شرط لگائی تھی کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو جنوری تک اقتدار سے ہٹ جائیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈائک خود ’آپریشن ایبسولیوٹ ریزولو‘ نامی خفیہ مشن کی تکمیل میں شامل تھے۔

<div class="paragraphs"><p>وینزویلا کے گرفتار صدر مادورو، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/Its_ereko">@Its_ereko</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکہ میں اسپیشل فورسز کے ایک جوان کو خفیہ فوجی آپریشن کی معلومات استعمال کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ گینن کین وان ڈائک پر الزام ہے کہ انہوں نے وینزویلا کے صدر مادورو پر کارروائی سے متعلق معلومات سے فائدہ اٹھا کر سٹے بازی کی اور تقریباً 4 لاکھ ڈالر (تقریباً 3.3 کروڑ روپے) کما لیے۔ تفتیش کے مطابق ڈائک نے دسمبر کے آخر میں ’پولی مارکیٹ‘ نامی پلیٹ فارم پر اکاؤنٹ بنایا، جو ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں لوگ مستقبل کے واقعات پر داؤ لگاتے ہیں۔

ڈائک نے تقریباً 32,000 ڈالر کی شرط لگائی کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو جنوری تک اقتدار سے ہٹ جائیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ڈائک خود ’آپریشن ایبسولیوٹ ریزولو‘ نامی خفیہ مشن کی منصوبہ بندی اور اس کی تکمیل میں شامل تھے، یعنی انہیں پہلے سے معلوم تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ اسی معلومات کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے 27 دسمبر سے 2 جنوری کے درمیان مجموعی طور پر 13 بار داؤ لگایا۔ آخری داؤ انہوں نے آپریشن شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے لگایا تھا۔


بتایا جا رہا ہے کہ مادورو کی گرفتاری سے متعلق آپریشن کے بعد ڈائک کو 4 لاکھ ڈالر سے زیادہ کا منافع ہوا۔ الزام ہے کہ انہوں نے اس رقم کو چھپانے کے لیے پہلے اسے ایک غیر ملکی کرپٹو کرنسی والٹ میں منتقل کیا اور بعد میں ایک آن لائن بروکریج اکاؤنٹ میں ڈال دیا تاکہ شبہ نہ ہو۔ ڈائک اس وقت فورٹ بریگ میں تعینات تھے۔ ان پر خفیہ سرکاری معلومات چرانے، اس کا غلط استعمال کرنے، دھوکہ دہی اور چوری سمیت مجموعی طور پر 5 مجرمانہ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

موصولہ اطلاع کے مطابق ڈائک کی پہلی پیشی نارتھ کیرولینا کی عدالت میں ہوگی۔ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران ان کی ایک تصویر ملی ہے جس میں وہ سمندر میں ایک جہاز کے ڈیک پر فوجی وردی اور اسلحہ کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ اس معاملے میں کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن نے بھی الگ سے شکایت درج کی ہے، جس میں رقم کی واپسی اور جرمانہ عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔


ادھر پولی مارکیٹ کا کہنا ہے کہ جیسے ہی انہیں شبہ ہوا کہ کوئی صارف خفیہ معلومات کی بنیاد پر ٹریڈ کر رہا ہے، انہوں نے معاملہ امریکی محکمۂ انصاف کے حوالے کر دیا اور تحقیقات میں مکمل تعاون کیا۔ اس واقعے کے بعد پریڈکشن مارکیٹ پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ان پلیٹ فارمز پر سٹے بازی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور ہر ہفتہ اربوں ڈالر داؤ پر لگائے جا رہے ہیں۔ امریکہ میں کئی لیڈران اس حوالے سے سخت قوانین بنانے کی بات کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس کا موازنہ مشہور بیس بال کھلاڑی پیٹ روز سے کیا، جنہیں اپنی ہی ٹیم پر سٹہ لگانے کے باعث پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ دنیا اب ایک کیسینو کی طرح ہو گئی ہے، جہاں ہر جگہ اس طرح کی سٹے بازی ہو رہی ہے، جو مناسب نہیں ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔