ایک خفیہ امریکی جائزہ: مادورو کے لوگ وینزویلا پر حکمرانی کے زیادہ اہل ہیں

مبصرین کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ، مادورو کی گرفتاری کو وینزویلا میں نظام کی تبدیلی کی امریکی کوشش کے طور پر ظاہر ہونے سے بچنا چاہتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

گزشتہ دو دنوں کے دوران بظاہر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا میں اپوزیشن رہنما ماریا کورينا ماچاڈو کے اقتدار سنبھالنے کی حمایت میں کمی آئی ہے۔ اگرچہ ماچاڈو نے بارہا ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور وینزویلا کو “آزادی کی راہ” پر ڈالنے کا کریڈٹ دیا۔ یہاں تک کہ گزشتہ سال حاصل ہونے والا نوبل امن انعام بھی ان کے نام کیا، تاہم حالیہ دنوں میں ٹرمپ نے اپوزیشن کے اقتدار سنبھالنے کے حوالے سے اپنے بیانات نرم کر دیے ہیں۔مبصرین کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ، مادورو کی گرفتاری کو وینزویلا میں نظام کی تبدیلی کی امریکی کوشش کے طور پر ظاہر ہونے سے بچنا چاہتے ہیں۔

ادھر ایک حالیہ خفیہ امریکی انٹیلی جنس جائزے میں کہا گیا ہے کہ مادورو حکومت کے اعلیٰ ارکان، جن میں ان کی نائب ڈیلسی رودریگز بھی شامل ہیں، کاراکاس میں عبوری حکومت کی قیادت اور قریبی مدت میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے زیادہ موزوں پوزیشن میں ہیں۔


با خبر ذرائع کے مطابق یہ تجزیہ سی آئی اے نے تیار کیا اور اسے ٹرمپ اور انتظامیہ کے چند اعلیٰ حکام کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بعد بظاہر ٹرمپ نے اپوزیشن کے بجائے مادورو کی نائب کی حمایت کو ترجیح دی۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسی تجزیے کی بنیاد پر ٹرمپ نے مادورو کی گرفتاری کے باوجود اپوزیشن کے اقتدار پر قبضے کی حمایت نہیں کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ اس نتیجے پر پہنچے کہ وینزویلا میں فوری استحکام اسی صورت ممکن ہے جب نیا انتظام مسلح افواج اور بااثر اشرافیہ کی حمایت رکھتا ہو۔ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق 2024 کے انتخابات میں فاتح سمجھے جانے والے ایڈمنڈو گونزاليس اور ماچاڈو کو نظام نواز سکیورٹی اداروں، منشیات نیٹ ورکس اور سیاسی مخالفین کی مزاحمت کے باعث اقتدار میں آنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ (بشکریہ نیوز پورٹل ’العربیہ ڈاٹ نیٹ، اردو‘)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔