’سخت جواب دیں گے‘، آبنائے ہرمز میں مال بردار جہاز پر امریکی حملہ سے ایران چراغ پا

ایرانی جہاز کو اس وقت روکا گیا جب وہ ایران کے بندر عباس کی طرف جاتے ہوئے شمالی بحر عرب میں 17 سمندری میل کی رفتار سے گزر رہا تھا۔ امریکی فوج نے کئی بار ناکہ بندی کی خلاف ورزی سے متعلق تنبیہ دی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>آبنائے ہرمز اور ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کو لے کر اچھی خبریں سامنے نہیں آ رہی ہیں، جس کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنی شروع ہو گئی ہے۔ ایران کے حضرت خاتم الانبیا فوجی ہیڈکوارٹر نے بحر عمان میں ایک ایرانی جہاز پر امریکی حملہ کی تصدیق کر دی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’سمندری ڈکیتی‘ کو انجام دیا ہے۔

جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بحرن عمان کے آبی علاقہ میں امریکہ نے ایران کے ایک جہاز پر گولی باری کی اور جہاز کے ڈیک پر اپنے کئی دہشت گرد فوجیوں کو تعینات کر کے اس کے نیویگیشن سسٹم کو غیر فعال کر دیا۔ بیان میں جہاز کو ضبط کیے جانے کی تصدیق بھی کی گئی ہے۔ اس میں تہران کی طرف سے جوابی کارروائی کی تنبیہ بھی دی گئی ہے۔ ایران نے کہا کہ ہم متنبہ کرتے ہیں کہ ایران کے مسلح افواج جلد ہی امریکی فوج کے ذریعہ کی گئی اس ڈکیتی کا جواب دیں گے اور بدلہ لیں گے۔


یہ تنبیہ امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) کے اس بیان کے بعد جاری کی گئی ہے، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے اتوار کو آبنائے ہرمز کے پاس بحری ناکہ بندی کو پار کرنے کی کوشش کر رہے ایک ایرانی پرچم والے مال بردار جہاز کو جبراً ضبط کر لیا۔ گزشتہ ہفتہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد سے یہ اس طرح کا پہلا واقعہ ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی جہاز کو اس وقت روکا گیا جب وہ ایران کے بندر عباس کی طرف جاتے ہوئے شمالی بحر عرب میں 17 سمندری میل کی رفتار سے گزر رہا تھا۔ امریکی فوج نے کئی بار تنبیہ جاری کی اور ایرانی پرچم والے جہاز کو اطلاع دی کہ وہ امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق جہاز نے بار بار دی گئی تنبیہ کو نظر انداز کیا۔ 6 گھنٹوں کی مدت میں ٹوسکو کی پائلٹ ٹیم کے ذریعہ بار بار دی گئی تنبیہوں پر عمل نہ کرنے کے بعد وارشپ ’یو ایس ایس اسپروئنس‘ نے جہاز کو انجن روم خالی کرنے کی ہدایت دی۔ ایرانی پائلٹ ٹیم نے بات نہیں مانی، اس لیے امریکی بحریہ کے جہاز نے انجن روم میں چھید کر کے انھیں وہیں روک دیا۔


یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ 31ویں مرین ایکسپیڈشنری یونٹ کے امریکی مرین فوجیوں نے بعد میں اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والے جہاز پر چڑھ کر کارروائی کی، جو اب بھی امریکی حراست میں ہے۔ امریکی کمان نے کہا کہ یہ کارروائی سوچ سمجھ کر، پیشہ ور اور مناسب طریقے سے کی گئی۔ انھوں نے بتایا کہ ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد سے 25 کمرشیل جہازوں کو واپس لوٹنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ خلیج عمان میں ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے جہاز کو امریکی فوج نے پوری طرح سے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔