ایران کا امریکی ناکہ بندی جاری رہنے تک آبنائے ہرمز بند رکھنے کا انتباہ، مغربی ایشیا میں پھر بڑھی کشیدگی

ایران کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت سکیورٹی صورتحال سے مشروط ہے اور اس اہم تجارتی گزرگاہ تک رسائی کا انحصار موجودہ جنگ بندی اور حملوں کے نہ ہونے پر ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکہ اورایران کے درمیان ہفتے کے روز اس وقت کشیدگی میں اضافہ ہوگیا جب تہران نے ’امریکہ کی جانب سے بار بار اعتماد کی خلاف ورزی‘ کا الزام لگا کر دنیا کے لیے اہم آبی گزرگاہ کو پھر سے مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا اور وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ ایران نے کہا کہ اس نے یہ قدم امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے جواب میں اٹھایا ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا کہ امریکی ناکہ بندی ختم ہونے تک آبی گزرگاہ بند رہے گی اور جو بھی جہاز وہاں سے گزرنے کی کوشش کرے گا اسے دشمن کی مدد سمجھا جائے گا اور اسے نشانہ بنایا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے گزرنے پر ایرانی مسلح افواج کی مکمل نگرانی ہے جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اگر امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہتی ہے تو اس راستے کو کالعدم تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اُس وقت تک مسلح افواج کے سخت انتظام اور کنٹرول کے تحت رہے گا جب تک کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کے لیے بحری جہازوں کی روانگی کی ناکہ بندی ختم نہیں کر دیتا ہے۔


آئی آر جی سی نے امریکی افواج کی جانب سے ناکہ بندی کو بحری قزاقی اور غیرقانونی اقدام قرار دیا ہے۔ ایرانی حکومت کا مزید کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے صرف وہی جہاز گزرسکیں گے جنہیں ایران اجازت دے گا۔ علاوہ ازیں جہازوں کو مقرر کردہ راستوں پر چلنا ہوگا اور مخصوص فیس ادا کرنی ہوگی۔ غورطلب ہے کہ امریکہ کی جانب سے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران پر مسلسل دباؤ کے دوران صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جب تک ایران کے ساتھ مکمل معاہدہ نہیں ہو جاتا، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

اس سے پہلے ہفتے کو ایران کی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت سکیورٹی صورتحال سے مشروط ہے اور اس اہم تجارتی گزرگاہ تک رسائی کا انحصار موجودہ جنگ بندی اور حملوں کے نہ ہونے پر ہوگا۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا حملے جاری رہے تو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے۔ بیان میں اشارہ دیا گیا کہ محفوظ ماحول کی عدم موجودگی میں اس اسٹریٹجک راستے پر معمول کی نقل و حرکت برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔


واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کیلئے نہایت اہم آبی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کے لیے بڑی مقدار میں خام تیل گزرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں خلل پیدا ہو سکتا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔