ایس جے شنکر نے یو اے ای-ایران کے وزیر خارجہ اور قطر کے وزیر اعظم سے فون پر کی بات

ایس جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’آج شام قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کے ساتھ جاری تنازعہ کے حوالے سے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>وزیر خاجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبد الرحمٰن بن جاثم الثانی سے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور عالمی توانائی سپلائی پر اس کے اثر کے متلعق اتوار کو تبادلہ خیال کیا۔ ایس جے شنکر نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزیر خارجہ شیخ عبد اللہ بن زائد النہیان سے بھی فون پر بات کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی فون پر بات کر خطے میں جاری کشیدگی پر تبادہ خیال کیا۔

قطر کے وزیر اعظم اور ایران و متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ سے ایس جے شنکر کی فون پر بات چیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ایران کو دی گئی حالیہ وارننگ کے بعد مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ٹرمپ نے وارننگ دی ہے کہ ’’اگر ’آبنائے ہرمز‘ کو پھر سے نہیں کھولا گیا تو ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔‘‘


ایس جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’آج شام قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کے ساتھ جاری تنازعہ کے حوالے سے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔‘‘ وزیر خارجہ نے ایک دیگر ٹویٹ میں لکھا کہ ’’ متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کے ساتھ مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔‘‘ اپنے ایرانی ہم منصب سے فون پر ہوئی بات چیت کے متعلق لکھا کہ ’’ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی کال موصول ہوئی۔ موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔‘‘

واضح رہے کہ خلیج فارس اور خیلج عمان کے درمیان واقع تنگ سمندری راستے ’آبنائے ہرمز‘ کو ایران کے ذریعہ بند کیے جانے کے بعد تیل اور گیس کی قیمتوں میں عالمی سطح پر تیزی آئی ہے۔ مغربی ایشیا ہندوستان کی توانائی کی خریداری کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ حالانکہ ایران نے ہندوستان سمیت اپنے دوست ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔


قابل ذکر ہے کہ ہندوستان نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی جلد از جلد ختم کرنے اور آبنائے ہرمز سے توانائی کی بلا رکاوٹ سپلائی کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے گزشتہ کچھ ہفتوں میں کئی سفارتی کوششیں کی ہیں۔ ہندوستان کا ماننا ہے کہ اگر اس سمندری راستے کی ناکے بندی جاری رہتی ہے تو ہندوستان سمیت کئی ممالک کی ایندھن اور کھاد کی سیکورٹی پر سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔