آبنائے ہرمز میں گولیوں کی گونج، 2 جہازوں پر ایران نے کی فائرنگ، ایک ہندوستانی جہاز بھی شامل
ہرمز میں جس ہندوستانی جہاز پر فائرنگ ہوئی ہے، اس پر موجود کسی بھی عملہ کے اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔ اس واقعہ کے بعد ہندوستان نے ایرانی سفیر کو طلب کیا ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کے مقصد سے کچھ جہازوں پر فائرنگ کر دی ہے۔ اس واقعہ کے بعد خلیج میں ایک بار پھر جنگ جیسے حالات پیدا ہونے لگے ہیں۔ ایران کے ذریعہ تازہ ناکہ بندی کے بعد سمندر میں جہاز کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں، جبکہ وہاں سے گزر رہے 2 جہازوں پر گولی باری کی گئی ہے۔ اس میں ایک ہندوستانی جہاز کے شامل ہونے کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ نے سرکاری ذرائع کے حوالہ سے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک ہندوستانی جہاز پر حملہ ہوا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس حملہ میں جہاز پر موجود کسی بھی عملہ کے اہلکار کو چوٹ نہیں پہنچی ہے، اور جہاز کو بھی کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ حکومت کی طرف سے مطلع کیا گیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل آف شپنگ حالات پر نظر بنائے ہوئے ہے اور جہاز کے ملازمین کی سیکورٹی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی بقیہ ہندوستانی پرچم والے جہازوں کی حفاظت پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ ہندوستانی جہاز پر فائرنگ واقعہ کے بعد ہندوستان نے ایرانی سفیر کو طلب بھی کیا ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق لبنان-اسرائیل کی جنگ بندی کے بعد اور ایران کے ذریعہ آبنائے ہرمز میں نرمی کا اعلان کیے جانے کے بعد سے اب تک اس سمندری راستہ سے 9 ہندوستانی جہاز گزرے ہیں۔ کئی دیگر جہاز قطار میں ہیں، لیکن اب حالات پھر سے پہلے جیسے ہو گئے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سیکورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ اب اس راستہ سے گزرنے والے ہر کمرشیل جہاز کو آئی آر جی سی کی فوج سے اجازت لینی ہوگی۔ ایران کے اس جارحانہ قدم کے بعد امریکہ کے ساتھ کشیدگی پھر عروج پر ہے۔ اس کا براہ راست اثر عالمی سپلائی سیریز اور سیکورٹی پر پڑتا نظر آ رہا ہے۔
ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ خلیج میں پھر سے سخت فوجی کنٹرول نافذ کیا جا رہا ہے۔ ایران نے یہ قدم اس لیے اٹھایا کیونکہ مبینہ طور پر امریکہ بار بار اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور ’ناکہ بندی‘ کے بہانے ایرانی بندرگاہوں پر ’لوٹ‘ جیسی حرکتیں انجام دے رہا ہے۔ امریکہ کے تئیں اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ہی ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا، اور اس اعلان کے چند ہی گھنٹے بعد 2 تجارتی جہازوں پر گولی باری کی خبر آئی ہے۔