ٹرمپ نے محصولات کو لے کر ایک اہم بیان دیا
ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کرنے والے ممالک پر محصولات عائد کرنے کی اہلیت سے محروم ہونا امریکہ کے لیے ایک زبردست دھچکا ہوگا۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ٹیرف کے حوالے سے ایک بار پھر اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیرف ہمارے ملک کے لیے ایک انتہائی فائدہ مند اقدام ہے کیونکہ اس سے ہماری قومی سلامتی اور خوشحالی کو اتنا فائدہ پہنچا ہے جتنا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کے لیے بات چیت آخری مراحل میں ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کرنے والے ممالک پر محصولات عائد کرنے کی اہلیت سے محروم ہونا امریکہ کے لیے ایک زبرست دھچکا ہوگا۔ ٹرمپ ان ممالک کا حوالہ دے رہے تھے جو امریکی برآمدات پر محصولات عائد کرتے ہیں۔
امریکی سپریم کورٹ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ باہمی محصولات سے متعلق ایک کیس کی سماعت کر رہی ہے۔ توقع ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں جلد ہی فیصلہ جاری کرے گی۔ عدالت اس بارے میں فیصلہ کرے گی کہ آیا صدر کو انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت ٹیرف لگانے کا اختیار ہے۔ یو ایس کورٹ آف انٹرنیشنل ٹریڈ (سی آئی ٹی) اور فیڈرل سرکٹ کورٹ آف اپیلز دونوں نے ان ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ اگر سپریم کورٹ اس فیصلے کو برقرار رکھتی ہے، تو درآمد کنندگان جنہوں نے ٹیرف ادا کیے ہیں وہ آئی ای ای پی اے کے تحت رقم کی واپسی کے حقدار ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان تعلقات نے 2025 میں خاص طور پر سخت دور کا تجربہ کیا۔ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر ہندوستانی مصنوعات پر پچیس فیصد ٹیرف کا اعلان کیا اور بعد میں روسی تیل کی خریداری کی وجہ سے اسے بڑھا کر پچاس فیصد کر دیا۔ ٹرمپ کا غصہ بار بار عوامی سطح پر سامنے آیا اور یہ دعویٰ کیا کہ ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی ان کے دوست ہیں لیکن ہندوستان روس کے لیے جنگی مشین کے طور پر کام کر رہا ہے۔ یوکرین کے ساتھ جاری جنگ میں ہندوستان روس سے جو تیل خریدتا ہے اسے روس استعمال کر رہا ہے۔خبر ہے کہ بڑھے ٹیرف کی وجہ سے وزیر اعظم نریندر مودی کی ناراضگی جگ ظاہر ہے جس کے بعد ٹرمپ نے اپنے موقف کو نرم کیاہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔