میکسیکو کی صدر پریس کانفرنس سے کر رہی تھیں خطاب، اچانک آیا 6.5 شدت کا زلزلہ، ہال میں موجود سبھی لوگ بھاگے باہر

زلزلہ ختم ہونے کے کچھ دیر بعد صدر کلاؤڈیا شنبام نے اپنی پریس بریفنگ دوبارہ شروع کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے گوریرو کی گورنر ایولن سالگاڈو سے بات کی تھی۔ ابھی کسی سنگین نقصان کی رپورٹ نہیں ملی ہے۔‘‘

زلزلہ، علامتی تصویر یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

میکسیکو میں 2 دسمبر کی شام 6.5 شدت کے زلزلہ نے لوگوں میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کر دیا۔ زلزلہ کا مرکز گوریرو ریاست کے سین مارکوس کے پاس تھا، جہاں لوگوں نے زمین کو واضح طور پر لرزتا ہوا محسوس کیا۔ جس وقت زلزلہ آیا اس وقت میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شنبام نئے سال کی اپنی پریس بریفنگ کر رہی تھیں۔ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ صدر کلاؤڈیا اور وہاں موجود لوگ فوراً ہال سے نکل کر باہر کی طرف بھاگے۔

ہال کے باہر پہنچنے کے بعد جب زلزلہ ختم ہوا تو صدر کلاؤڈیا دوبارہ ہال میں پہنچیں اور اپنی پریس بریفنگ پھر سے شروع کر دی۔ انھوں نے موجود لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے گوریرو کی گورنر ایلون سالگاڈو سے بات کی ہے۔ ابھی تک کسی سنگین نقصان کی کوئی رپورٹ نہیں ملی ہے۔‘‘ حالانکہ زلزلہ کا جھٹکا محسوس کرتے ہی میکسیکو سٹی اور اکاپولکو کے باشندے و سیاح سڑکوں پر دوڑتے نظر آئے۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلہ کا الارم بجنے کے بعد افسران نے بہت اطمینان کے ساتھ صدر کلاؤڈیا اور دیگر لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا۔ خبر رساں ایجنسی ’ایسو سی ایٹیڈ پریس‘ کی رپورٹ کے مطابق میکسیکو سٹی میں زلزلہ کے جھٹکے اتنے تیز تھے کہ اونچی عمارتیں ہلنے لگیں اور لوگ بلڈنگ سے نکل کر کھلے مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس زلزلہ سے متعلق کئی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔ ایک صارف نے میٹرو اسٹیشن کی ویڈیو پوسٹ کی ہے، جس میں ٹرین کو صاف طور پر ہلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ صارف نے دعویٰ کیا ہے کہ زلزلہ کی وجہ سے 40 منٹ تک میٹرو خدمات رخنہ انداز رہی۔ ایک دیگر ویڈیو میں زلزلہ کی وجہ سے اونچی عمارتوں کو ہلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ کئی ٹیکٹونک پلیٹس پر واقع ہونے کے سبب میکسیکو زلزلہ کے لحاظ سے دنیا کے سب سے حساس ممالک میں سے ایک ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔