تنازعہ بڑھنے کے بعد ٹرمپ نے اپنا موقف تبدیل کیا

ناٹو کے رکن ممالک کی جانب سے امریکی صدر ٹرمپ سے معافی کا مطالبہ کیے جانے کے بعد ٹرمپ نے اپنا موقف تبدیل کر لیا۔ انہوں نے برطانوی فوجیوں کو عظیم اور بہادر قرار دیا۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس&nbsp;</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ نائن الیون کے بعد افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں برطانوی اور ناٹو فوجی کے کردار پر انگلی اٹھائی تھی ۔ امریکی صدر کے اس بیان سے کھلبلی مچ گئی۔ برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر اور ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن سمیت کئی رہنماؤں نے ٹرمپ سے معافی کا مطالبہ کیا۔ اسٹارمر نے ان کے تبصروں کو خوفناک قرار دیا جس کے بعد امریکی صدر کا موقف نرم ہو گیا ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ نے اب سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ٹروتھ سوشل‘ پر افغانستان میں برطانوی فوجیوں کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے انہیں "تمام جنگجوؤں میں عظیم" قرار دیا ہے۔ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ "برطانیہ کے عظیم اور بہادر سپاہی ہمیشہ امریکا کے ساتھ رہیں گے۔ افغانستان میں 457 فوجی شہید ہوئے، کئی شدید زخمی ہوئے، اور وہ اب تک کے عظیم جنگجوؤں میں سے تھے، یہ رشتہ اتنا مضبوط ہے کہ اسے کبھی توڑا نہیں جا سکتا"۔امریکی صدر نے برطانوی فوج کو دنیا کی دوسری بہادر ترین فوج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ سب سے پیار کرتے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔


فرنٹ لائنز کے پیچھے رہنے کے بارے میں تبصرہ ٹرمپ کا اپنے یورپی اتحادیوں پر طنز  تھا۔ انہوں نے ناٹو ممالک کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’’وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے افغانستان میں فوج بھیجی‘‘۔ اور انہوں نے انہیں بھیجی بھی، لیکن وہ فرنٹ لائنز سے تھوڑا پیچھے ہی رہی ۔ صدر ٹرمپ نے یہ سوال بھی کیا کہ کیا ناٹو کو کبھی ضرورت پڑنے پر وہ امریکہ کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ان سے کبھی بھی کچھ نہیں مانگا۔

صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ان بیانات پر برطانیہ کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا، برطانیہ کے کئی وزراء نے ٹرمپ پر تنقید کی۔ وزیر اعظم کیر اسٹارمر کے ایک ترجمان نے کہا، "صدر (ڈونالڈ ٹرمپ) نے نائن الیون کے بعد افغانستان میں برطانوی فوجیوں سمیت ناٹو فوجیوں کے کردار کو کم کرنے کی غلطی کی۔ ہمیں اپنی مسلح افواج پر فخر ہے، اور ان کی خدمات اور قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔"

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔