ہم ہیں کامیاب-2: کورونا وبا کی تباہی نے روشن کی ’زیڈ ایس اے ہاسپیٹلٹی‘ کی شمع

یہ سچ ہے کہ کورونا وبا نے بے شمار کمپنیوں کا وجود ختم کر دیا، لیکن کچھ ایسی کمپنیاں بھی ہیں جس کی بنیاد کورونا وبا سے پیدا حالات میں پڑیں۔ ’زیڈ ایس اے ہاسپیٹلی‘ اس کی بہترین مثال ہے۔

<div class="paragraphs"><p>’زیڈ ایس اے ہاسپیٹلٹی‘ کے ڈائریکٹر محمد سلیم اپنے دفتر میں کام کرتے ہوئے</p></div>
i
user

تنویر احمد

ایک مشہور کہاوت ہے ’ہر کامیاب آدمی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے‘۔ یہاں ہم ایسی شخصیت کی جدوجہد پر روشنی ڈالیں گے، جن کے ذریعہ کھڑی کی گئی کمپنی کے پیچھے ایک نہیں، دو خواتین کا ہاتھ ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں محمد سلیم انصاری کی، جو ’زیڈ ایس اے ہاسپیٹلٹی‘ کے ڈائریکٹر ہیں۔ تقریباً 5 سالوں کے عرصہ میں ہی انھوں نے یونیفارم بنانے کے شعبہ میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کر لی ہے۔ اس کمپنی کو شروع کرنے کا خیال جب محمد سلیم کے ذہن میں آیا تو وہ قدم بڑھانے سے پہلے بہت گھبرائے ہوئے اور تذبذب میں تھے۔ وقت لاک ڈاؤن کا تھا، جب کورونا وبا نے ہر طرف تباہی مچا رکھی تھی۔ وہ اُس وقت دہلی میں کچھ لوگوں کے ساتھ لنین سپلائی کا کاروبار کر رہے تھے، جسے چھوڑ کر واپس اپنے گھر الٰہ آباد چلے گئے۔ معاش کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آ رہا تھا، اور تبھی اسپتال چلانے والے کچھ دوستوں نے محمد سلیم کو مشورہ دیا کہ بیٹھنے سے اچھا ہے ’ماسک‘ کی سپلائی اسپتالوں میں شروع کریں۔ ماسک کی اِس سپلائی نے ہی ایک راستہ ہموار کیا اور محمد سلیم نے اسپتالوں کے لیے ’یونیفارم‘ بنانے کا ارادہ کیا۔ اُس مشکل وقت میں محمد سلیم کو شریک حیات زوبینہ سلیم نے ہمت دلائی، جو کہ تعلیم یافتہ اور حوصلہ مند خاتون ہیں۔ ’زیڈ ایس اے ہاسپیٹلی‘ کی کامیابی کے پیچھے دوسرا ہاتھ زارا سلیم کا ہے، جو محمد سلیم کی بیٹی ہیں۔ وہ ابھی الٰہ آباد یونیورسٹی سے انگریزی زبان میں ماسٹرس کی پڑھائی کر رہی ہیں اور کمپنی قائم ہونے کے روز اوّل سے فائنانس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا مارکیٹنگ وغیرہ کی ذمہ داری سنبھالتی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ یونیفارم، یعنی مخصوص رنگ و انداز کا لباس کسی بھی ادارے کی شناخت اور وقار قائم کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ صرف ایک لباس نہیں ہوتا، بلکہ ادارہ کے وقار اور اجتماعی روح کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ خاص طور سے اسپتالوں اور ہوٹلوں میں آپ سبھی ملازمین کو یکساں لباس پہنے دیکھتے ہوں گے، جس سے ہر کوئی بہ آسانی اسٹاف اور عام لوگوں میں فرق کر پاتا ہے۔ یہ یونیفارم ادارہ میں نظم و ضبط کی علامت بھی ہوتا ہے اور ملازمین کے درمیان مساوات کا احساس بھی پیدا کرتا ہے۔ خاص یونیفارم ادارہ کو دوسرے اداروں سے ممتاز بنانے کے ساتھ ساتھ اس کی برانڈ ویلیو میں اضافہ بھی کرتا ہے۔ ان باتوں کی اہمیت محمد سلیم نے سمجھی اور اپنے روابط کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معیاری و دیدہ زیب یونیفارم تیار کرنا شروع کیا۔ محمد سلیم بتاتے ہیں کہ ’زیڈ ایس اے ہاسپیٹلٹی‘ کا رجسٹریشن جولائی 2021 میں ہوا، لیکن اس سے چند ماہ قبل ہی کچھ چیزوں کی سپلائی شروع ہو چکی تھی۔ انھیں سب سے پہلا باضابطہ آرڈر بہار کی راجدھانی پٹنہ کے پھلواری شریف واقع ’ایڈوانس ملٹی اسپیشلٹی ہاسپیٹل‘ سے ملا۔ وہاں فراہم کردہ یونیفارم کو ڈاکٹرس اور دیگر اسٹاف نے بہت پسند کیا۔ یہاں سے ملی حوصلہ افزائی کے بعد محمد سلیم نے بہار کو ہدف بنایا اور کچھ اہم اسپتالوں سے رابطہ کیا۔ اُن کی محنت رنگ لائی اور مزید آرڈرس ملے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ سب کچھ محمد سلیم بغیر کسی اسٹاف کے کر رہے تھے۔ ابتدا میں سبھی یونیفارم اپنی نگرانی میں محمد سلیم دوسری جگہوں پر تیار کرواتے تھے اور گھر لا کر پیکنگ اور ڈیلیوری وغیرہ کا عمل انجام دیا جاتا تھا۔

ہم ہیں کامیاب-2: کورونا وبا کی تباہی نے روشن کی ’زیڈ ایس اے ہاسپیٹلٹی‘ کی شمع

یہی وہ وقت تھا جب زوبینہ سلیم نے خود کو پوری طرح سے کمپنی کے نام وقف کر دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’کئی بار خود ہی اسٹیچنگ کرنی پڑتی تھی اور خود ہی پیکنگ کرنی ہوتی تھی۔ بیٹی زارا ہاتھوں سے بل تیار کرتی تھی، اب تو سب کچھ کمپیوٹر سے ہوتا ہے۔‘‘ زوبینہ بتاتی ہیں کہ ’’2 سال بہت محنت و مشقت والے تھے۔ ہم سبھی کی محنت اور دوست و احباب کی دعاؤں سے راستہ آسان ہوتا چلا گیا۔ 20 ہزار روپے سے شروع کیا گیا کام اب لاکھوں میں پہنچ چکا ہے۔ آج ہمارا اپنا سیٹ اَپ ہے، کئی ملازمین ہیں، لیکن اب بھی محنت میں ہم کسی بھی طرح کی کمی نہیں کرتے ہیں۔ ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب کئی اسٹاف ایک ساتھ چھٹی پر رہتے ہیں۔ ایسی صورت میں پیکنگ اور لاجسٹکس اپنے ہاتھوں سے کرتے ہیں۔‘‘

ہم ہیں کامیاب-2: کورونا وبا کی تباہی نے روشن کی ’زیڈ ایس اے ہاسپیٹلٹی‘ کی شمع

’زیڈ ایس اے ہاسپیٹلٹی‘ کے لیے 2023 بہت اہم سال رہا، کیونکہ بڑے آرڈرس ملنے شروع ہو گئے تھے۔ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے محمد سلیم نے اپنا سیٹ اَپ تیار کیا اور مختلف کاموں کے لیے بڑی مشینیں خریدی گئیں۔ کچھ مشینیں تو چین سے منگوائی گئیں، جو کہ یونیفارم کی دیدہ زیبی کے لیے بہت اہم تھیں۔ جب کام بڑھنے لگا، تو ذمہ داریاں بھی بڑھتی چلی گئیں۔ دھیرے دھیرے اسٹاف بڑھائے گئے اور پھر بہار و اتر پردیش سے نکل کر محمد سلیم کے قدم دہلی، راجستھان، مہاراشٹر، گجرات جیسی ریاستوں کی طرف بڑھے۔ یہ مرحلہ کم محنت طلب نہیں تھا، کیونکہ آرڈرس کو پابندیٔ وقت کے ساتھ ڈیلیور کرنا اور کلائنٹس کی اُمیدوں پر کھڑا اُترنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں تھا۔ محمد سلیم نے بتایا کہ ’’2023 تک اسپتالوں میں یونیفارم سپلائی کرنے کا کام بہت آگے بڑھ چکا تھا۔ یونیفارم کے ساتھ ساتھ لنین، یعنی پردہ اور بیڈ شیٹ وغیرہ کی فراہمی بھی شروع ہو چکی تھی۔ اسپتالوں سے آگے بڑھ کر فائیو اسٹار ہوٹلوں میں بھی لنین پہنچانے لگے تھے۔ ایسے میں پروڈکٹ کا معیار برقرار رکھنا، اس کی قیمت، کسٹمر کی خواہشات... سبھی باتوں کا خیال رکھ کر وقت پر ڈیلیوری مشکل امر تھا۔ لیکن دھیرے دھیرے 12-10 لوگوں کی ایک اچھی ٹیم تیار ہو گئی۔‘‘

ہم ہیں کامیاب-2: کورونا وبا کی تباہی نے روشن کی ’زیڈ ایس اے ہاسپیٹلٹی‘ کی شمع

آبائی وطن بنارس میں انٹر تک کی پڑھائی کرنے والے محمد سلیم نے 1992 میں تاریخی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا جہاں پالٹیکل سائنس سے آنرس کیا اور پوسٹ گریجویشن کی ڈگری تاریخ میں حاصل کی۔ محمد سلیم بتاتے ہیں کہ ’زیڈ ایس اے ہاسپیٹلی‘ کی کامیابی میں انھیں علیگ برادران کا بہت تعاون حاصل ہوا۔ ان کی رہنمائی اور تعاون سے ہی آج کاروبار ’ہوٹل حیات ریجنسی‘ (نئی دہلی)، ’تاج اونتیکا‘ (بنارس)، ’تاج ورکلا‘ (بنارس)، ’پارک پلازہ‘ (شاہدرہ، دہلی)، ’میدانتا اسپتال‘ (الٰہ آباد)، ’ایڈوانس ملٹی اسپیشلٹی ہاسپیٹل‘ (پھلواری شریف، پٹنہ)، ’فریدیہ چلڈرنس ہاسپیٹل‘ (بکسر)، ’ٹیسٹ کنگ کیفے‘ (بنارس)، ’ایشا کوپیکر سی کے سیلون‘ (ممبئی)، ’احمد فارمیسی‘ (علی گڑھ)، ’فاسٹ آرتھو ہاسپیٹل‘ (لکھنؤ) تک پہنچ گیا ہے، اور یہ سلسلہ بہت دراز ہے۔

ہم ہیں کامیاب-2: کورونا وبا کی تباہی نے روشن کی ’زیڈ ایس اے ہاسپیٹلٹی‘ کی شمع

’زیڈ ایس اے ہاسپیٹلی‘ کے ڈائریکٹر محمد سلیم بات چیت کے دوران اس بات کے لیے اللہ وحدہٗ لاشریک کا شکر ادا کرتے ہیں کہ کورونا وبا کے مشکل دور میں ایک ایسی راہ ہموار ہوئی، جس نے کئی لوگوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کیے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ’زیڈ ایس اے ہاسپیٹلٹی‘ کی شمع کورونا وبا کی تباہی سے روشن ہوئی ہے۔ یہ سچ ہے کہ کورونا وبا نے بے شمار کمپنیوں کا وجود ختم کر دیا، لیکن کچھ ایسی کمپنیاں بھی ہیں جس کی بنیاد کورونا وبا سے پیدا حالات میں پڑیں۔ ’زیڈ ایس اے ہاسپیٹلی‘ اس کی بہترین مثال ہے۔ یہ جاننا بھی آپ کے لیے دلچسپ ہوگا کہ ’زیڈ ایس اے ہاسپیٹلٹی‘ میں ’زیڈ‘ سے مراد ’زوبینہ‘، ’ایس‘ سے مراد ’سلیم‘ اور ’اے‘ سے مراد ’الوینا‘ (محمد سلیم کی بیٹی زارا کا گھریلو نام) ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔