کورونا کی تیسری لہر سے برطانیہ بے حال، ماہرین نے کہا ’مکمل لاک ڈاؤن ہٹانا گناہ ہوگا‘

برطانیہ میں کورونا سے پیدا مشکل حالات کو دیکھتے ہوئے 1200 سے زائد ماہرین نے برطانوی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ لاک ڈاؤن سے جڑی پابندیوں کو پوری طرح سے ہٹانا خطرناک اور غیر اخلاقی ہوگا۔

برطانیہ میں کورونا / آئی اے این ایس
برطانیہ میں کورونا / آئی اے این ایس
user

تنویر

کئی ممالک میں کورونا کی تیسری لہر نے قہر برپا کیا ہے۔ ان ممالک میں برطانیہ بھی شامل ہے جہاں جمعہ کے روز 51870 نئے کیسز سامنے آئے جو کہ گزشتہ چھ مہینوں میں نیا ریکارڈ ہے۔ جنوری کے بعد پہلی بار برطانیہ میں 50 ہزار سے زیادہ نئے کیس درج کیے گئے، اور وہ بھی تب جب تقریباً 68 فیصد آبادی پوری طرح سے ٹیکہ لگوا چکی ہے یا پھر ٹیکے کی کم از کم ایک خوراک لے چکی ہے۔ اس درمیان ہفتہ کے روز برطانیہ کے وزیر صحت ساجد جاوید کے کورونا پازیٹو پائے جانے سے لوگوں کو حالات کی سنگینی کا مزید اندازہ ہوا۔

جس تیزی سے برطانیہ میں حالات بگڑ رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے سابق وزیر صحت جیریمی ہنٹ نے متنبہ کیا ہے کہ حکومت کو پھر سے لاک ڈاؤن لگانے کے لیے مجبور ہونا پڑے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 1200 سے زائد ماہرین نے برطانوی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ لاک ڈاؤن سے جڑی پابندیوں کو پوری طرح سے ہٹانا خطرناک اور غیر اخلاقی ہوگا۔ دراصل برطانیہ میں 19 جولائی سے سبھی طرح کی پابندیوں کو ہٹانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اس سے ٹھیک پہلے کورونا کے معاملوں میں جس طرح تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے، اس سے حکومت کی فکر بڑھ گئی ہے۔


سابق وزیر صحت اور کامنس ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر کمیٹی کے چیئرمین جیریمی ہنٹ نے بی بی سی ریڈیو 4 کے ایک پروگرام میں تیسری لہر کی خطرناکی بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’کورونا سے اسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد ہر دو ہفتے میں دوگنی ہو رہی ہے۔ حالات انتہائی خطرناک ہیں۔‘‘ بتایا جاتا ہے کہ برطانیہ میں کورونا کی تیسری لہر کے پیچھے اصل وجہ وائرس کا ڈیلٹا ویریئنٹ ہے۔ تیسری لہر جس طرح سے خطرناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، دنیا بھر کے ماہرین برطانوی حکومت کو متنبہ کر رہے ہیں کہ پابندیوں کو پوری طرح سے نہ ہٹایا جائے۔ دنیا بھر کے 1200 سے زائد ماہرین نے لینسٹ میں گزشتہ مہینے شائع اس مضمون کی حمایت کی ہے جس میں سبھی طرح کی پابندیوں کو ہٹانے کے برطانیہ کے فیصلے کو خطرناک اور گناہ بتایا گیا ہے۔ حالانکہ برطانوی حکومت نے لاک ڈاؤن کو پوری طرح سے ہٹانے کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔