کرکٹر شیوم دوبے نے انجم خان سے کی شادی، تصویروں میں نظر آئے دست بہ دعا

شیوم دوبے نے شادی کی کچھ تصویریں اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کی ہیں جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ انھوں نے مسلم رسم و رواج کے مطابق شادی کی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

ایک طرف جہاں وی ایچ پی اور بجرنگ دل جیسی تنظیمیں ہندو-مسلم شادی کو ’لو جہاد‘ کا نام دے کر بدنام کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں، وہیں دوسری طرف کئی سرکردہ شخصیتیں اس طرح کی سیاست سے بالکل الگ بین مذاہب شادی کو ترجیح دیتی نظر آ رہی ہیں۔ اس فہرست میں ابھرتے ہوئے ہندوستانی کرکٹر شیوم دوبے کا نام بھی شامل ہو گیا ہے جنھوں نے 16 جولائی کو اپنی پرانی دوست انجم خان سے شادی کر لی۔ اس شادی کی کچھ تصویریں شیوم دوبے نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کی ہیں جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ انھوں نے مسلم رسم و رواج کے مطابق شادی کی ہے۔ حالانکہ اس سلسلے میں ابھی تک کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ انھوں نے شادی ہندو رسوم کے مطابق کی ہے یا مسلم رسوم کے مطابق۔

ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر ایک رپورٹ اس سلسلے میں ضرور شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ شیوم دوبے نے انجم خان سے مسلم رسم و رواج سے شادی کی ہے، لیکن اس تعلق سے شیوم دوبے یا ان کے کسی ساتھی و رشتہ کا کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ شیوم دوبے نے جو تصویریں اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کی ہیں اس میں وہ شیروانی پہنے اور سہرا باندھے نظر آ رہے ہیں۔ ایک تصویر میں وہ دست بہ دعا بھی نظر آ رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے انجم خان سے نکاح کیا ہے اور غالباً اس کے بعد امام صاحب کے ذریعہ کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے کی گئی دعاء میں شریک ہوئے ہوں گے۔


ایک تصویر میں شیوم دوبے انجم خان کو انگوٹھی پہناتے ہوئے بھی نظر آ رہے ہیں، اور یہ طریقہ عموماً مسلم طبقہ میں شادی کے دوران اختیار نہیں کیا جاتا ہے۔ گویا کہ ممکن ہے شیوم دوبے نے شادی میں ہندو اور مسلم دونوں رسوم کو یکجا کر دیا ہوگا۔ بہر حال، شیوم کی شادی پر ان کے چاہنے والے مبارکباد دے رہے ہیں اور ان کی خوشحالی ازدواجی زندگی کے لیے دعاء کر رہے ہیں۔ حالانکہ سوشل میڈیا پر کچھ لوگ شیوم دوبے کو تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں اور اس شادی کو نصرت جہاں و نکھل جین کی شادی جیسا قرار دے رہے ہیں۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ اداکارہ نصرت جہاں اور بزنس مین نکھل جین نے بڑی دھوم دھام سے اپنی شادی کی تھی، لیکن گزشتہ مہینے ان دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 17 Jul 2021, 4:11 PM