ترکی میں موساد کے دو جاسوسوں کو گرفتار کر لیا گیا
تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ترکی اور دیگر ممالک سے حاصل کردہ سم کارڈوں، موڈموں اور روٹروں کے سیریل نمبر اور تکنیکی خصائص کے حامل ڈیٹا کی تصویریں بنائیں اور انہیں آگے پہنچایا۔

ترکی قومی خفیہ ایجنسی 'ایم آئی ٹی' نے اسرائیل خفیہ ایجنسی موساد کے لئے جاسوسی کے الزام میں دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ ترک سکیورٹی حکام کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ترکیہ خفیہ ایجنسی 'ایم آئی ٹی' نے "MONITUM" کوڈ نام والے ایک پیچیدہ تفتیشی آپریشن میں موساد کے 2 جاسوسوں کو گرفتار کیا ہے۔
سکیورٹی حکام کے مطابق 'ایم آئی ٹی'نے استانبول کے چیف اٹارنی دفتر اور استنابول پولیس ڈائریکٹریٹ کے شعبہ انسداد دہشت کے ساتھ کئے گئے مشترکہ آپریشن میں مہمت بوداک دریا اور ویسل کریم اولو کو حراست میں لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم 'دریا 'ایک کان کنی انجینئر ہے۔ اس نے 2005 میں اپنی کمپنی بنا کر ضلع مرسین کے علاقے سیلیفکے میں سنگ مرمر کی کان کھولی۔ اس کے بعد ملزم تیزی سے بین الاقوامی تجارت کرنے لگا۔ کمپنی کے متعدد ممالک میں بڑھتے ہوئے کاروباری روابط نے اسرائیلی انٹیلی جنس کی توجہ اپنی طرف کھینچی۔
ذرائع نے کہا ہےکہ ستمبر 2012 میں ایک "علی احمد یاسین" کوڈ نیم والے ایک شخص ایک غیر فعال اسرائیلی کمپنی کے نمائندے کی حیثیت سے دریا کے دفتر میں آیا اور تعاون کی پیشکش کی۔ جنوری 2013 تک دریا کو یورپ میں ایک ملاقات کے دوران موساد کے ایجنٹوں سے متعارف کروایا گیا۔
ان ملاقاتوں کے دوران، موساد کے "لیوس" کوڈ نیم والے جاسوس نے فلسطینی نژاد ترک شہری ویسل کریم اوغلو کی بھرتی کی درخواست کی اور دونوں مردوں کو ہدایت کی کہ وہ تمام سرگرمیوں اور رابطوں کی مشترکہ رپورٹ دیا کریں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دریا نے یورپی ممالک میں موساد کے متعدد جاسوسوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں جو"لیوس"، "جیسس/ہوسے"، "ڈاکٹر روبرٹو/ریکارڈو"، "ڈین/ڈینِس"، "مارک"، "ایلی/ایمی" اور "مائیکل" جیسے مختلف کوڈ نام استعمال کر رہے تھے۔
تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ حراست میں لئے گئے یہ دونوں جاسوس بنیادی طور پر معاشرتی و تجارتی روابط کے ذریعے معلومات جمع کرتے تھے۔ خاص طور پر خطے میں اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے فلسطینیوں، افراد، مقامات اور نیٹ ورک کی تفصیلات موساد کو پہنچاتے تھے۔دریا پر غزہ میں داخلے کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کرنے، وہاں کےگوداموں کی صورت حال کا جائزہ لینےاور ان کی تصاویر موساد کو بھیجنے کا بھی الزام ہے۔
فائل میں مزید کہا گیا ہے کہ 2016 میں کریم اوغلو نے ڈرون اسپیئر پارٹ کاروبار میں داخلے کی تجویز پیش کی، یہ خیال اسرائیلی انٹیلی جنس کو منتقل کیا گیا اور ابتدائی نمونے موساد کی جانب سے فراہم کیے گئے۔ حکام نے کہا ہے کہ محمد زواری کے ساتھ ڈرون طیاروں کی فروخت کے مذاکرات کئے گئے اور دسمبر 2016 میں انہیں تیونس میں قتل کر دیا گیا اور یہ آپریشن اسرائیل نے کیا تھا۔
آپریشنل سیکورٹی کے دائرہ کار میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل خفیہ ایجنسی نے دریا کو پاس ورڈ والے مواصلاتی سسٹم فراہم کئے اور اس کے دو پولی گراف ٹیسٹ لئے گئے۔ ایک ٹیسٹ 2016 میں ایک ایشیائی ملک میں اور دوسرا اگست 2024 میں ایک یورپی ہوٹل میں لیا گیا۔ دونوں ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد دریا کو اعلیٰ آپریشنل سطح پر آگے بڑھنے کی اجازت دے دی گئی۔ تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ترکی اور دیگر ممالک سے حاصل کردہ سم کارڈوں، موڈموں اور روٹروں کے سیریل نمبر اور تکنیکی خصائص کے حامل ڈیٹا کی تصویریں بنائیں اور انہیں آگے پہنچایا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔