’ہمارے سامنے امید کی شمع موجود، ہم ضرور کامیاب ہوں گے‘، کورونا کی تباہی کے درمیان چینی صدر کا خطاب

اپنی تقریر کے دوران شی جنپنگ نے کورونا وبا کے دوران مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے بھی بہادری کے ساتھ طبی امداد کرنے والوں کی خوب تعریف کی۔

چینی صدر شی جن پنگ / یو این آئی
چینی صدر شی جن پنگ / یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

چین میں کورونا کی تباہی عروج پر ہے۔ روزانہ لاکھوں کیسز سامنے آ رہے ہیں اور انفیکشن پوری طرح بے قابو دکھائی دے رہا ہے۔ چین میں کورونا کے قہر کو دیکھتے ہوئے دوسرے ممالک، خصوصاً چین سے ملحق ممالک میں بھی دہشت کا ماحول ہے۔ اس درمیان چینی صدر شی جنپنگ نے ہفتہ کے روز ملک کے نام خطاب کیا۔ چینی صدر نے چینی عوام کو نئے سال سے ٹھیک پہلے، یعنی 31 دسمبر کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’چین میں کووڈ-19 کی وجہ سے زندگی کے تئیں حفاظت کو لے کر ایک نیا زاویہ سامنے آیا ہے۔ نئے دور میں داخل کرنے کے ساتھ ہی ہمیں اپنی حفاظت کو لے کر زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔‘‘

اپنی تقریر کے دوران شی جنپنگ نے کورونا وبا کے دوران مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے بھی بہادری کے ساتھ طبی امداد کرنے والوں کی خوب تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’کورونا وبا کے دوران بیشتر فرنٹ لائن ورکرس، ڈاکٹرس، گراؤنڈ لیول پر کام کرنے والوں نے مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے بہت اچھا کام کیا ہے۔ اس کے لیے وہ تعریف کے قابل ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’ابھی وبا کو روکنے اور قابو میں کرنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے چین کے عوام سخت محنت کر رہے ہیں اور سخت محنت کا مطلب ہوتا ہے جیت حاصل کرنا۔ اس کے لیے ہمارے سامنے امید کی شمع موجود بھی ہے۔ ہم ضرور جیت حاصل کریں گے۔‘‘


شی جنپنگ کا یہ خطاب ٹیلی ویژن پر نشر ہوا ہے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں بتایا کہ چین نے کووڈ-19 کے خلاف لڑائی میں اہم مشکلات اور چیلنجز کو پار کر لیا ہے۔ چین کی کووڈ-19 پالیسی کے بارے میں شی جنپنگ نے کہا کہ ’’ملک نے بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کی۔ ہم نے زیرو کووڈ پالیسی کو بھی ختم کر دیا۔ چین میں زیرو کووڈ پالیسی تین سال تک رہی ہے۔‘‘

خطاب کے دوران چینی صدر نے سال 2022 کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’2022 کے دوران ہم نے زلزلہ، سیلاب، خشک سالی اور جنگل کی آگ سمیت مختلف قدرتی آفات کا سامنا کیا۔ کہیں کہیں ہم نے کام کرنے والے مقامات پر ہوئے حادثات کا تجربہ کیا۔ اس درمیان مصیبتوں کا سامنا کرنے والے ایک ساتھ رہے۔ یہاں تک کہ بحران میں دوسروں کی مدد کرنے کے لیے اپنی زندگی کی قربانی دینے والوں کی کئی دردناک کہانیاں بھی سامنے آئی ہیں۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


;