’ایران میں رہ کر امریکہ تیل کی نگرانی کر سکتا ہے‘، ٹرمپ نے وینزویلا جیسا معاہدہ ایران سے بھی کرنے کا دیا اشارہ

آئرش اوپن گولف چیمپئن شپ میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ ختم ہوتے ہی پٹرول کی قیمت تیزی سے نیچے گرے گی۔ ایسا اس لیے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا اثر تیل بازار پر پڑ رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ</p></div>
i

امریکہ اور ایران کے مابین بیان بازیوں کا سلسلہ مستقل جاری ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ امریکہ ایران سے باہر نکل سکتا ہے، لیکن ایک متبادل یہ بھی ہے کہ امریکہ وہاں رک جائے اور تیل اپنے پاس رکھے۔ انہوں نے اس متبادل کا موازنہ اگست میں وینزویلا کے ساتھ امریکہ کے اعلان کردہ معاہدے سے کیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ ان دنوں آئرلینڈ کے دورے پر ہیں، اور ٹرمپ وہاں کئی اہم میٹنگ میں شرکت کر رہے ہیں، اور ساتھ ہی آئرش اوپن گولف چیمپئن شپ بھی دیکھنے کے لیے گئے۔ اسی دوران انہوں نے ایران کے حوالے سے بڑا بیان دیا ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران جنگ اسی سال ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخاب کے فوراً بعد ہی ختم ہو سکتی ہے۔ آئرش اوپن گولف چیمپئن شپ کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ ختم ہوتے ہی پٹرول کی قیمت تیزی سے نیچے گرے گی۔ دراصل مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا اثر تیل بازار پر بہت زیادہ پڑ رہا ہے۔ سعودی عرب کی ایک تیل پائپ لائن پر حملے کے بعد تیل کاروباریوں کو پیر کے روز تیل کی قیمت مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔


بہرحال، ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ صحیح معاہدہ کرے گا۔ وہ ایسا معاہدہ نہیں کریں گے جو امریکہ کے لیے بہتر نہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران مسلسل امن مذاکرات کے لیے رابطہ کر رہا ہے۔ حالانکہ ایران پہلے بھی ٹرمپ کے اس دعوے کو خارج کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے ایران سے متعلق دوسرا راستہ بھی بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ آخر کار ایران سے نکل جائے گا، جب تک کہ وہ وہاں رہ کر تیل رکھنے کا فیصلہ نہ کر لے۔ اس قدم کے لیے ٹرمپ نے وینزویلا کی مثال دی۔ اگست میں اعلان کردہ امریکہ-وینزویلا معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو وینزویلا سے جو آمدنی ہوتی ہے، اس سے جنگ کے اخراجات کئی گنا زیادہ نکل چکے ہیں۔ ٹرمپ کا اشارہ تھا کہ ایران میں بھی تیل سے ہونے والی آمدنی امریکہ کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔