ڈیزل کی قلت: روس کے تیل ٹھکانوں پر حملے بند کرے یوکرین، ٹرمپ کی زیلنسکی سے اپیل

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے روس کے تیل اور ڈیزل کے ٹھکانوں پر حملے روکنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے روس میں ڈیزل کی قلت پیدا ہو رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ</p></div>
i

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یوکرین سے روس کے تیل اور ایندھن کے ٹھکانوں پر حملے روکنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے کہا ہے کہ روس میں ڈیزل ایندھن کو نشانہ بنانے والے حملے بند کیے جائیں، کیونکہ ان کارروائیوں سے روس میں ڈیزل کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔

ٹرمپ نے یہ بات آئرلینڈ اوپن گولف ٹورنامنٹ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ یہ ٹورنامنٹ آئرلینڈ کے ڈون بیگ کلب میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس موقع پر ایک صحافی نے ٹرمپ سے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ان کی حالیہ بات چیت اور اس کے بعد زیلنسکی سے رابطے کے بارے میں سوال کیا۔

اس سوال کے جواب میں ٹرمپ نے یوکرین کی جانب سے روس کے توانائی اور ایندھن کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے پر اپنی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ زیلنسکی کو ایک کام کرنا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ روس کے تیل کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا بند کریں۔

ٹرمپ نے تاہم یہ بھی واضح کیا کہ ان کے خیال میں یوکرین روس میں دیگر اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے، لیکن ڈیزل ایندھن کے مراکز کو حملوں کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے حملوں کے نتیجے میں روس میں ڈیزل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے اور ایندھن کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں دونوں فریق ایک دوسرے کے فوجی، توانائی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق اہداف کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ یوکرین نے روس کے اندر تیل صاف کرنے والے کارخانوں، ایندھن کے ڈپو اور توانائی کے دیگر مراکز پر بھی متعدد حملے کیے ہیں۔ کیئف کا مؤقف رہا ہے کہ روس کی جنگی صلاحیت کو متاثر کرنے کے لیے اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ضروری ہے۔

ٹرمپ کی تازہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہے ہیں۔ امریکی صدر اس سلسلے میں روسی صدر پوتن سے بھی رابطے میں رہے ہیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان حالیہ بات چیت نے جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو دوبارہ توجہ کا مرکز بنایا ہے۔

ٹرمپ نے ماضی میں بھی روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جلد ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کی تازہ گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر یوکرینی حملوں کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے خاص طور پر ڈیزل ایندھن کو نشانہ بنانے سے گریز کرنے کی بات کہی۔ ان کے مطابق ایندھن کی تنصیبات پر حملوں کا براہ راست اثر سپلائی پر پڑتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ روس میں ڈیزل کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے۔

ان کا یہ بیان روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے معاملے پر امریکی موقف کی ایک اہم جھلک پیش کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کرتا ہے کہ ٹرمپ جنگ کے خاتمے کی سفارتی کوششوں کے دوران یوکرین کی فوجی کارروائیوں، بالخصوص روس کے توانائی کے شعبے پر حملوں، کو محدود کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔