دہشت گردی پر بڑی بڑی باتیں کرنے والے امریکہ نے افغانستان چھوڑنے سے پہلے کیا تھا بڑا سمجھوتہ، طالبان کا انکشاف!

امیر متقی کا کہنا ہے کہ افغانستان چھوڑنے سے قبل امریکہ طالبانی لیڈروں کو عالمی پابندی کی فہرست سے باہر نکالنے اور دوحہ معاہدہ میں نامزد دہشت گردوں کی فہرست سے ان کے نام ہٹانے پر متفق ہوا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

افغانستان میں طالبان کی قیادت والی عبوری حکومت نے امریکہ اور مغربی دنیا کو ان وعدوں کی یاد دلائی ہے جو امریکہ نے اس کی اعلیٰ قیادت کو عالمی پابندیوں اور دہشت گردوں پر مبنی فہرست سے ہٹانے کے لیے کیے تھے، جس میں اس کی حکومت کی قبولیت یقینی کرنے کا وعدہ بھی شامل تھا۔

طالبان نے واشنگٹن سے اپنے وعدے کو پورا کرنے اور افغانستان میں حکومت کے قیام سے متعلق غیر ضروری تنقید سے دور رہنے کی گزارش کی ہے۔ طالبان کی قیادت والی حکومت کے کارگزار وزیر خارجہ امیر متقی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ طالبان حکومت کو قبولیت یقینی کرنے اور اس کے لیڈروں کو عالمی پابندی والی فہرست سے ہٹانے اور دوحہ معاہدہ میں نامزد دہشت گردوں کی فہرست سے ان کے ناموں کو ہٹانے کے لیے متفق ہوا تھا، جس کے بعد افغانستان سے بیرونی فورسز کی واپسی ہوئی ہے۔


امیر متقی نے کہا کہ دوحہ معاہدہ کے دوران امریکہ نے تحریری شکل میں کہا تھا کہ وہ بین الاقوامی طبقہ کے ذریعہ طالبان کی قیادت والی حکومت کی قبولیت یقینی کرے گا اور طالبان کے سینئر لیڈروں کے ناموں کو عالمی پابندیوں اور نامزد فہرستوں سے ہٹانا بھی یقینی کرے گا۔ امیر متقی کا یہ بیان کافی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ مغربی ممالک افغانستان میں طالبان کے عبوری سیٹ اَپ کی تنقید کر رہے ہیں۔ خصوصاً ان لیڈروں کی جن کے خلاف عالمی پابندیاں ہیں، اور جن کے سروں پر لاکھوں ڈالرس کے انعام بھی ہیں۔

امریکہ کے ساتھ ہی مغربی ممالک اور بین الاقوامی طبقہ نے کہا ہے کہ ان کے لیے مشتبہ تاریخ اور عالمی پابندیوں کے ساتھ فی الحال طالبان قیادت کو پہچاننا مشکل ہے اور وہ کوئی جلدبازی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ طالبان کا تازہ بیان یہ انکشاف کرتا ہے کہ طالبان قیادت کے لیے عالمی قبولیت دوحہ سمجھوتہ کا حصہ ہے، جس پر واشنگٹن کے ذریعہ یکسر اتفاق ظاہر کیا گیا ہے، یقینی طور سے اس طرح کے عزم کے پیچھے موجود دلیل اور بنیاد پر ہنگامہ برپا ہو سکتا ہے۔


دوسری جانب واشنگٹن عبوری طالبان حکومت کو کسی بھی طرح کی منظوری یا قبولیت دینے سے انکار کر رہا ہے اور اس نے زور دے کر کہا ہے کہ جب تک طالبان بین الاقوامی مطالبات پورے نہیں کرتا فکر کا ازالہ نہیں کرتا، اس وقت تک کوئی منظوری نہیں دی جا سکتی ہے۔ بین الاقوامی مطالبات میں خواتین اور دیگر ذات پر مبنی گروپوں کی نمائندگی کے ساتھ ایک مشترکہ حکومت کی تشکیل، خواتین کے حقوق اور افغانستان کو دہشت گرد تنظیموں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ میں نہیں بدلنے پر مثبت عزام شامل ہے، جو امریکہ کے ساتھ ہی علاقہ اور باقی دنیا کے لیے ایک اہم حفاظتی فکر کا موضوع بن سکتا ہے۔ لیکن طالبان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی طبقہ کے سبھی مطالبات کو پہلے ہی پورا کیا جا چکا ہے، کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ عبوری حکومت در اصل ایک مشترکہ حکومت ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔