روس کا دعویٰ: یوکرین سے چھینی گئی جگہ پر سال نو کی تقریبات کے دوران حملے میں 24 افراد ہلاک!

روس کا دعویٰ ہے کہ ڈرون میں ایک مادہ ملا تھا، جو پھٹ گیا اور آگ بھڑک اٹھی، جس نے جشن منانے والوں کو لپیٹ میں لے لیا۔ روس نے ڈرون حملے کا الزام یورپی ممالک پر لگایا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

روس کا دعویٰ ہے کہ نئے سال کے موقع پر یوکرین سے چھینے گئے متنازع علاقے کھیرسون میں ہوٹل اور کیفے پر ڈرون کے ذریعہ کئے گئے حملوں میں  24 افراد ہلاک اور تقریباً 50 زخمی ہوگئے۔ روس کا دعویٰ ہے کہ ڈرون میں ایک مادہ ملا تھا، جو پھٹ گیا اور آگ بھڑک اٹھی، جس نے جشن منانے والوں کو لپیٹ میں لے لیا۔ اہم بات یہ ہے کہ روس نے اس ڈرون حملے کا الزام انگلینڈ اور دیگر یورپی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں پر لگایا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے (سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی) نے نوووگراد میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کی رہائش گاہ پر ڈرون حملے کی خبروں کو غلط قرار دیا ہے۔ روس نے الزام لگایا تھا کہ یوکرین نے 28 دسمبر کی رات پوتن کی رہائش گاہ پر حملہ کر کے پوتن کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم، سی آئی اے نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ معلومات شیئر کی ہے اور  جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ یوکرین نے کوئی حملہ نہیں کیا۔ اس سے روس کے دعوؤں کو ایک اہم دھچکا لگا ہے۔


کھیرسون  کے صوبائی گورنر ولادیمیر سالڈو کا حوالہ دیتے ہوئے، روس نے اطلاع دی کہ یہ حملہ تین مختلف ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا۔ سالڈو نے حملے کے بعد تباہ ہونے والے ہوٹل اور کیفے کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق گورنر نے اس حملے کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا۔ روسی گورنر نے بتایا کہ حملے میں ایک بچے سمیت 24 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ سب ہوٹل اور کیفے میں نئے سال کا جشن منا رہے تھے۔ حملے کے بعد روسی ایمرجنسی سروسز کو ایلرٹ کر دیا گیا تھا تاہم آزاد ایجنسیوں نے روس کے ان دعووں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

کھیرسون حملے کے حوالے سے یوکرین کی جانب سے کوئی اطلاع یا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم چند ماہ قبل کھیرسون کے ایک ہوٹل پر حملے کی خبر آئی تھی جس میں مبینہ طور پر سالڈو زخمی ہوئے تھے۔ فروری 2022 میں جنگ شروع ہونے سے پہلے بحیرہ اسود کے ساحل پر واقع شہر کھیر سون یوکرین کے کنٹرول میں تھا۔ بعد میں روس نے فوجی کارروائیوں میں صوبہ کھیر سون کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔کچھ علاقے اب بھی یوکرین کے کنٹرول میں ہیں۔ (انپٹ بشکریہ نیوزپورٹل’اے بی پی‘)