ممدانی امریکہ میں قرآن پاک پر حلف لینے والے پہلے مسلم لیڈر نہیں، سب سے پہلے کیتھ ایلیسن نے ایسا کیا

امریکہ کی تاریخ کو دیکھیں تو قرآن پاک پر حلف لینے والے پہلے مسلم لیڈر ظہران ممدانی نہیں ہیں۔ یہ اعزاز جاتا ہے کیتھ ایلیسن کو، جنھوں نے 2007 میں امریکی کانگریس کے رکن کے طور پر قرآن پاک پر حلف لیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>قرآن کی علامتی تصویر</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہند نژاد ظہران ممدانی نے نیویارک سٹی کے میئر عہدہ کی حلف برداری قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر لی۔ اس کے ساتھ ہی وہ نہ صرف شہر کے پہلے مسلم میئر بن گئے، بلکہ اس عہدہ پر پہنچنے والے پہلے جنوب ایشیائی اور پہلے افریقہ میں پیدا ہوئے شخص بھی بن گئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ممدانی امریکہ میں قرآن پاک پر حلف لینے والے پہلے مسلم لیڈر نہیں ہیں۔ ان سے قبل بھی ایک مسلم سیاسی لیڈر نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف برداری کی تھی۔

اگر امریکہ کی تاریخ کو دیکھیں تو قرآن پاک پر حلف لینے والے پہلے مسلم لیڈر کا اعزاز کیتھ ایلیسن کے سر جاتا ہے، جنھوں نے 2007 میں امریکہ کانگریس کے رکن کے طور پر قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا تھا۔ ایلیسن منیسوٹا سے ڈیموکریٹ رکن پارلیمنٹ تھے اور امریکہ کے پہلے مسلم رکن پارلیمنٹ بنے تھے۔ انھوں نے اپنا مذہب تبدیل کر اسلام اختیار کیا تھا۔


کیتھ ایلیسن کی حلف برداری کچھ معنوں میں بہت خاص تصور کی جاتی ہے۔ انھوں نے جس قرآن پاک پر ہاتھ رکھا تھا، وہ امریکہ کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن کی ذاتی کاپی تھی۔ یہ قرآن 1764 میں لندن میں شائع ہوئی تھی اور بعد میں جیفرسن نے اس کو خرید لیا تھا۔ 1815 میں یہ کتاب کانگریس کی لائبریری میں پہنچی۔ اس قرآن کو حلف برداری کے لیے کیپٹل تک پہنچانے کے لیے خاص انتظام کیا گیا تھا۔ اسے خاص باکس میں رکھا گیا، سیکورٹی اہلکاروں کے ذریعہ زیر زمین راستوں سے لایا گی ااور ایکس رے جانچ کے بعد تقریب والی جگہ تک پہنچایا گیا تھا۔ کیتھ ایلیسن نے اس وقت بتایا تھا کہ انھوں نے حلف برداری کے لیے اس قرآن پاک کا انتخاب اس لیے کیا، کیونکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کے بانی لیڈر الگ الگ ثقافتوں اور علمی روایات کو سمجھنے میں یقین رکھتے تھے۔

کیتھ ایلیسن کے بعد 2019 میں الہان عمر نے بھی قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا تھا۔ انھوں نے اپنے دادا کے قرآن پاک کا انتخاب کیا تھا۔ بعد ازاں رشیدہ طلیب بھی ان مسلم خاتون اراکین پارلیمنٹ میں شمار ہوئیں جنھوں نے امریکہ کی سیاست میں نئی پہچان بنائی اور قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا۔ حالانکہ یہ سبھی حلف برداریاں کانگریس سطح کی تھیں، نہ کہ کسی بڑے شہر کے ایگزیکٹیو چیف کے طور پر۔


جہاں کیتھ ایلیسن کی حلف برداری ایم تقریبی معاملہ تھا، وہیں ظہران ممدانی نے ایگزیکٹیو عہدہ، یعنی نیویارک سٹی کے میئر کی شکل میں قرآن پر حلف لیا ہے۔ یہ فرق ظہران ممدانی کی حلف برداری کو تاریخی بناتا ہے۔ ممدانی کی حلف برداری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ میں شناخت، مذہب اور سیاست کو لے کر بحث تیز ہے۔ ان کے میئر بننے کو مسلم، جنوب ایشیائی اور مہاجر طبقہ کے لیے ایک بڑی حصولیابی تصور کیا جا رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔