زیادہ خواتین کو ملازمت پر رکھنا ’پیرس سٹی ہال‘ کو پڑا بھاری، 80 لاکھ کا جرمانہ عائد

جرمانہ فرانسیسی قانون ’سوادیت لاء‘ کے تحت عائد کیا گیا ہے۔ یہ قانون 2013 میں بنا تھا جس کے مطابق کسی بھی سرکاری محکمہ میں خواتین کی تقرری 40 فیصد ہونی چاہیے۔

پیرس کی خاتون میئر اینے ہڈیلگو، تصویر آئی اے این ایس
پیرس کی خاتون میئر اینے ہڈیلگو، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

ایک طرف جہاں خواتین کو زیادہ سے زیادہ مواقع دینے اور انھیں خود مختار بنانے کی بات ہو رہی ہے، وہیں فرانس کے وزارت قانون نے ’پیرس سٹی ہال‘ پر اس بات کے لیے جرمانہ عائد کر دیا ہے کہ وہاں اعلیٰ عہدوں پر مردوں کے مقابلے زیادہ خواتین فائز ہیں۔ جرمانہ بھی کوئی چھوٹا موٹا نہیں بلکہ 80 لاکھ سے زائد کا ہے۔ وزارت قانون کا کہنا ہے کہ مرد و خواتین کی تقرری میں فرق جنسی توازن کو بگاڑتا ہے، اس لیے سٹی ہال کو جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

دراصل یہ سب ایک فرانسیسی قانون کے تحت ہوا ہے جس کا نام ہے ’سوادیت لاء‘۔ یہ قانون 2013 میں بنا تھا جس کے مطابق کسی بھی سرکاری محکمہ میں 40 فیصد تقرری خواتین کی ہونی چاہیے اور 40 فیصد تقرری مردوں کی ہونی چاہیے۔ لیکن پیرس سٹی ہال میں سال 2018 کے دوران 11 خواتین اور 5 مردوں کی تقرری کی گئی۔ گویا کہ 69 فیصد خواتین کو ملازمت سے جڑنے کا موقع ملا۔ اس طرح ’سوادیت لاء‘ کی خلاف ورزی ہوئی اور پیرس سٹی ہال پر 90 ہزار یورو یعنی تقریباً 80 لاکھ 46 ہزار 720 روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔

جہاں تک ’سوادیت لاء‘ کا سوال ہے، یہ قانون اس لیے بنا تاکہ سول سروس میں اعلیٰ عہدوں تک خواتین اور مردوں کی رسائی میں تفریق نہ رہے۔ ساتھ ہی اس سے یہ بھی یقینی بنانے کی کوشش ہوئی کہ کسی محکمہ میں 60 فیصد تک ایک ہی جنس کے لوگ نہ ہو جائیں۔ یہ سبھی قوانین حکومت میں خواتین کی رسائی اور آواز کو مضبوط کرنے کے لیے بنایا گیا۔

سال 2019 میں اس قانون میں ایک ترمیم کی گئی، جس کے تحت یہ طے ہوا کہ اگر کسی سرکاری محکمہ میں 60 فیصد تک اعلیٰ عہدیداران ایک ہی جنس کے ہو جائیں تو اس محکمہ کو جرمانہ دینا ہوگا۔ پیرس سٹی ہال پر جرمانہ قانون میں ہوئی اسی ترمیم کے بعد عائد کیا گیا ہے۔ جرمانہ لگنے کے بعد پیرس کی خاتون میئر اینے ہڈیلگو کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’پیرس سٹی ہال پر اس طرح کا جرمانہ لگایا جانا ویسے تو نہایت غلط اور بے بنیاد ہے، لیکن میں اس سے پریشان نہیں ہوں۔‘‘ ہڈیلگو نے جرمانہ کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے خوشی ہے ہم پر اس طرح کا جرمانہ لگا۔‘‘

یہاں قابل ذکر ہے کہ فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون نے جب عہدہ سنبھالا تھا تو وعدہ کیا تھا کہ حقوق نسواں ان کی حکومت کے اہم ایشوز میں شامل ہوگا۔ حالانکہ اب تک جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اس کے مطابق فرانس میں دفاتر میں خواتین کی تعداد میں کوئی اضافہ دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔ اس درمیان پیرس سٹی ہال میں خواتین کی بڑھی ہوئی تعداد پر وزارت قانون کے ذریعہ جرمانہ عائد کیے جانے کے بعد فرانس میں ہنگامہ مچ گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next