امریکی مطالبات ماننے پر بچی وینزویلا کے وزراء کی جان: ڈیلسی روڈریگز
صدر ڈیلسی روڈریگز اب کہہ رہی ہیں کہ انہیں اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے امریکہ کے سامنے جھکنا پڑا۔ امریکی افواج نے انہیں اپنی شرائط ماننے کے لیے 15 منٹ کا وقت دیا۔

"انہوں نے ہمیں جواب دینے کے لیے 15 منٹ کا وقت دیا، ورنہ وہ ہمیں مار ڈالیں گے..." یہ وہ جملے ہیں جو وینز ولا کی قائم مقام صدر کہہ رہی ہیں۔ وینزویلا کی قائم مقام صدر، ڈیلسی روڈریگز نے دعویٰ کیا ہے کہ جب امریکی فوجیوں نے اس وقت کے صدر نکولس مادورو کو پکڑا تو انہیں اور ان کے ساتھیوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
امریکی افواج نے ان کی کابینہ کو امریکی مطالبات ماننے کے لیے 15 منٹ کا وقت دیا ورنہ ان سب کو گولی مارنے کی دھمکہ دی گئی ۔’ دی گارڈین‘ کے مطابق، ایک لیک ہونے والی ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈیلسی روڈریگز نے امریکی آپریشن کے سات دن بعد ایک معاون سے بات کی۔
واضح رہے کہ نکولس مادورو اس فوجی آپریشن میں پکڑے گئے اور بعد میں امریکہ لے گئے۔ نکولس مادورو طویل عرصے سے واشنگٹن کے نشانے پر تھے۔ فوجی آپریشن کے بعد مادورو کو امریکہ لے جایا گیا اور اب وہاں ان پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
لیک ہونے والی ویڈیو میں، روڈریگز کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں نے انہیں مطلع کیا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ذمہ داری سنبھالنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔ مبینہ دھمکیوں کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دھمکیاں صدر مادورو کے اغوا کے پہلے ہی لمحے سے شروع ہوئیں۔ امریکی فوجیوں نے کابینہ کے کئی معاونین کو جواب دینے کے لیے 15 منٹ کا وقت دیا، ورنہ وہ انہیں مار ڈالیں گے۔
یہ انکشاف قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان خفیہ اتحاد کی خبروں کے سامنے آنے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ان خبروں کے سامنے آنے کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ روڈریگز نومبر 2025 سے امریکہ کے ساتھ رابطے میں تھی اور مادورو کی گرفتاری کے بعد اقتدار سنبھالنے کا اشارہ دے رہی تھی ۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔