’کسی بھی حملہ کا سخت جواب دیا جائے گا‘، مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی فوجی تعینات پر ایران ہوا برہم

ایرانی عہدیدار نے کہا کہ فوجی تعیناتی کو ایران سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ ایران کو امید ہے کہ یہ تیاری کسی حقیقی ٹکراؤ کے ارادے سے نہیں کی جا رہی۔

ایران امریکہ / علامتی تصویر
i
user

قومی آواز بیورو

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی امریکی فوجی سرگرمیوں کے درمیان ایران نے امریکہ کو سخت تنبیہ دی ہے۔ ایران کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر کسی بھی قسم کا حملہ کیا گیا، چاہے وہ محدود ہو یا وسیع پیمانے پر، تو ایران اسے مکمل جنگ تصور کرے گا اور اس کا جواب نہایت سخت انداز میں دیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کا ایک ایئرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ اور دیگر فوجی وسائل مشرق وسطیٰ پہنچنے والے ہیں۔

ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اس فوجی تعیناتی کو ایران سنجیدگی کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کو امید ہے کہ یہ تیاری کسی حقیقی ٹکراؤ کے ارادے سے نہیں کی جا رہی، تاہم ملک کی فوج ہر ممکن صورتحال کے لیے پوری طرح الرٹ ہے۔


خبر رساں ایجنسی ’رائٹرس‘ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی عہدیدار نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس بار کوئی بھی حملہ، چاہے اسے محدود، سرجیکل یا کسی اور نام سے پکارا جائے، ایران اسے براہ راست اپنے خلاف مکمل جنگ سمجھے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی صورت میں ایران سب سے سخت جواب دے گا تاکہ مستقبل میں کوئی بھی ایران پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ امریکہ کا ایک ’آرماڈا‘ ایران کی سمت بڑھ رہا ہے، لیکن انہوں نے یہ بھی وضاحت کی تھی کہ وہ اس کے استعمال کی نوبت نہ آنے کی امید رکھتے ہیں۔ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ نہ تو مظاہرین کو نقصان پہنچائے اور نہ ہی اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کرے۔ اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کی خود مختاری یا علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی تو ایران خاموش نہیں بیٹھے گا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کا رد عمل کس نوعیت کا ہوگا۔


ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ جو ملک طویل عرصہ سے امریکی فوجی دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کر رہا ہو، اس کے پاس اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہوتا۔ ایران کے پاس موجود تمام وسائل ملک کے دفاع اور توازن برقرار رکھنے کے لیے تیار رکھے گئے ہیں۔ توجہ طلب ہے کہ امریکہ اس سے پہلے بھی کشیدگی کے ادوار میں مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھاتا رہا ہے۔ کئی مرتبہ اسے دفاعی قدم قرار دیا گیا، لیکن گزشتہ سال جون میں ایران کے جوہری پروگرام پر حملوں سے پہلے بھی امریکہ نے بڑے پیمانے پر فوجی جماؤ کیا تھا۔ ایسے میں موجودہ حالات کے باعث خطہ میں تشویش اور غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔