افغانستان کی نصف آبادی دانے دانے کو محتاج، نومبر میں بھکمری کا ٹوٹے گا ریکارڈ

افغانستان میں سیاسی عدم استحکام، طالبان کے قبضہ، خشک سالی، کووڈ-19 اور معاشی بحران کے مشترکہ اثرات نے لوگوں کو دانے دانے کا محتاج بنا دیا ہے، ان کی معمولات زندگی بری طرح متاثر ہے۔

افغانستان کا ایک گاؤں
افغانستان کا ایک گاؤں
user

قومی آوازبیورو

فوڈ اینڈ ایگریکلچر ادارہ (ایف اے او) اور اقوام متحدہ عالمی فوڈ پروگرام (یو این ایف پی) کے شریک قائد افغانستان کی فوڈ سیکورٹی اور زراعت کلسٹر کے ذریعہ پیر کو جاری کی گئی جدید رپورٹ کے مطابق افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی، یعنی ریکارڈ 22.8 ملین لوگ نومبر سے بھکمری کا سامنا کریں گے۔

ہندوستان میں سیاسی عدم استحکام، طالبان کے قبضہ، خشک سالی، کووڈ-19 اور معاشی بحران کے مشترکہ اثرات نے زندگی، معمولات، اور لوگوں کے کھانے تک رسائی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں سخت سردیوں کے دنوں میں اور مشکل ہونے والی ہے، جس سے ملک کے ان علاقوں کے کٹنے کا خطرہ ہے جہاں فیملی ٹھنڈ کے مہینوں میں زندہ رہنے کے لیے انسانی مدد پر منحصر ہے۔


آئی پی سی رپورٹ میں پایا گیا ہے کہ نومبر 2021 سے مارچ 2022 تک دو میں سے ایک سے زیادہ افغان بحران (آئی پی سی مرحلہ 3) یا ایمرجنسی (آئی پی سی مرحلہ 4) بہت زیادہ فوڈ عدم استحکام کی طح کا سامنا کریں گے۔ بنیادی فوڈ ضرورتوں کو پورا کرنے، روزی روٹی کا تحفظ کرنے اور انسانی تباہی کو روکنے کے لیے فوری انسانی مداخلت کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے ذریعہ آئی پی سی تجزیہ کرنے والے 10 سالوں میں یہ اب تک درج کی گئی تیز فوڈ عدم تحفظ لوگوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ عالمی سطح پر افغانستان مکمل اور امکانی دونوں نظریہ سے تیز فوڈ عدم تحفظ سے بے لوگوں کی سب سے بڑی تعداد میں سے ایک ہے۔

ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کیو ڈونگیو نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ہم ملک کے ایک بڑے حصے میں سردیوں کے آنے سے پہلے افغانستان میں اپنی ڈیلیوری کو تیز کرنے اور بڑھانے کے لیے ہنرمندی کے ساتھ اور بااثر ڈھنگ سے کام کریں، جس میں لاکھوں لوگ، جن میں کسان، خواتین، چھوٹے بچے اور بزرگ شامل ہیں، بھوک سے مر رہے ہیں۔ یہ زندگی یا موت کا معاملہ ہے۔ ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے ہیں اور انسانی آفات کو ہمارے سامنے آتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے ہیں۔


ڈبلیو ایف پی کے کارگزار ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی نے کہا کہ افغانستان اب دنیا کے سب سے خراب انسانی بحران میں سے ایک ہے۔ وہاں فوڈ سیکورٹی پوری طرح سے تباہ ہو گئی ہے۔ اس سردی میں لاکھوں افغان مہاجر اور بھکمری کے درمیان انتخاب کرنے کے لیے مجبور ہوں گے، جب تک کہ ہم اپنی زندگی بخش امداد کو آگے نہیں بڑھائیں گے اور جب تک معیشت کو پھر سے زندہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہم تباہی کی طرف لگاتار بڑھ رہے ہیں اور اگر ہم ابھی کارروائی نہیں کرتے ہیں تو ہمارے ہاتھوں سے اب سب کچھ نکل چکا ہوگا۔

جوکھم والے لوگوں میں پانچ سال سے کم عمر کے 3.2 ملین بچے ہیں، جن کے سال کے آخر تک تیز نقص تغذیہ سے متاثر ہونے کے امکان ہیں۔ اکتوبر کے شروع میں ڈبلیو ایف پی اور یونیسیف نے متنبہ کیا تھا کہ فوری زندگی بخش علاج کے بغیر دس لاکھ بچوں کو سنگین نقص تغذیہ سے مرنے کا خطرہ ہے۔ پہلی بار شہری باشندوں کو دیہی طبقات کی یکساں شرحوں پر فوڈ عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو ملک میں بھوک کے بدلتے چہرے کو نشان زد کرتا ہے۔


بڑے پیمانے پر بے روزگاری کے بحران کا مطلب ہے کہ سبھی اہم شہری مراکز کو شمالی مڈل کلاس آبادی سمیت فوڈ عدم تحفظ کے ایمرجنسی (آئی پی سی مرحلہ 4) کی سطح کا سامنا کرنے کا اندازہ ہے۔ دیہی علاقوں میں چار سالوں میں دوسری خشک سالی کا سنگین اثر 7.3 ملین لوگوں کی روزی روٹی کو متاثر کرنا جاری رکھے گا، جو زندہ رہنے کے لیے زراعت اور لائیو اسٹاک پر منحصر ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔