جنگ کے بعد پہلی بار نظر آئے مجتبیٰ خامنہ ای! 12 سیکنڈ کی ویڈیو میں لوگوں سے بات کرتے دکھائی دیے سپریم لیڈر

ایران کی ’مہر‘ نیوز ایجنسی نے مجتبیٰ خامنہ ای کی ایک ویڈیو جاری کی ہے۔ ویڈیو میں مجتبیٰ خامنہ ای لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ یہ ویڈیو ان کی خراب صحت سے متعلق خبروں کا جواب معلوم ہوتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>مجتبیٰ خامنہ ای / آئی اے این ایس</p></div>
i

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے حوالے سے گزشتہ کچھ دنوں سے مختلف نوعیت کی گفتگو ہو رہی تھی۔ اب ایک ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد خبروں نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ حال ہی میں اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے اور انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ یہاں تک کہا گیا تھا کہ اگر ان کی موت کی خبر سامنے آتی ہے، تو حیرانی کی بات نہیں ہے۔ اس دعوے کے بعد ایران کے سپریم لیڈر کی صحت سے متعلق دنیا بھر میں بحث تیز ہو گئی تھی۔ حالانکہ ایران کی جانب سے اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

اسی درمیان ایران کی ’مہر‘ نیوز ایجنسی نے مجتبیٰ خامنہ ای کی ایک ویڈیو جاری کی ہے۔ ویڈیو سامنے آتے ہی ان خبروں پر سوال اٹھنے لگے ہیں، جن میں ان کی حالت انتہائی نازک بتائی جا رہی تھی۔ ویڈیو میں مجتبیٰ خامنہ ای لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ یہ ویڈیو ان کی خراب صحت کو لے کر سامنے آنے والی خبروں کا جواب معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اس پورے معاملے میں ایک پیچیدگی اب بھی برقرار ہے۔ مہر نیوز ایجنسی نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ ویڈیو کب کی ہے۔


سامنے آنے والی 12 سیکنڈ کی ویڈیو میں مجتبیٰ خامنہ ای نظر تو آ رہے ہیں، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان کی موجودہ حالت کیسی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنگین بیماری کی خبروں کے بعد سامنے آنے والی یہ ویڈیو بھی کئی سوالوں کا جواب دینے کے بجائے کچھ نئے سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ کچھ وقت پہلے ڈونالڈ ٹرمپ نے بتایا تھا کہ فوجی کارروائی کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای تقریباً 90 فیصد تک متاثر ہوئے تھے، اور کام کرنے سے قاصر تھے۔ ایسے میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ حالات کے پیش نظر امریکہ کی اگلی حکمت عملی کیا ہوگی۔

دراصل مجتبیٰ خامنہ ای طویل عرصے سے عوامی طور پر نظر نہیں آئے ہیں۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل حملے میں اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران کے سپریم لیڈر کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ اس کے بعد سے ان کی عوامی موجودگی انتہائی محدود رہی ہے اور ان کی جانب سے بنیادی طور پر صرف تحریری بیانات ہی سامنے آئے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی صحت کے حوالے سے مسلسل قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں۔ پہلے ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی تھیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تھے۔ کچھ رپورٹوں میں ان کے زخموں کو سنگین بتایا گیا، ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ ان کے چہرے پر شدید چوٹ لگی تھی، جس کے بعد وہ سامنے نہیں آرہے ہیں۔


ان کی سیکورٹی کو دیکھتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ وہ اعلیٰ عہدیداروں سے براہ راست بات کرنے کے بجائے درمیان کے لوگوں کے ذریعے رابطہ کر رہے تھے۔ اس دوران ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ فی الحال مجتبیٰ خامنہ ای سے براہ راست بات چیت کرنا بہت مشکل ہے۔ ان کی غیر موجودگی کو لے کر مسلسل سوال اٹھتے رہے ہیں۔ جولائی میں سعودی نیوز چینل الحدث نے ایک اسرائیلی سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ اس وقت مجتبیٰ خامنہ ای ایران میں بھی نہیں تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔