ایرانی صدر پزشکیان خفیہ ملاقات کے دوران سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا چہرہ بھی نہیں دیکھ سکے!
پزشکیان کی بار بار کی گئی درخواست اور استعفے کی دھمکی کے بعد خامنہ ای کے دفتر نے ملاقات پر رضامندی ظاہر کی، لیکن واضح کر دیا تھا کہ ملاقات معمول کے مطابق لیڈر کی سرکاری رہائش گاہ پر نہیں ہوگی۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی مجتبیٰ خامنہ ای سے ہوئی مبینہ خفیہ ملاقات کے حوالے سے نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔ ایران انٹرنیشنل سے بات کرنے والے ذرائع کے مطابق پزشکیان کو تہران کے ایک خفیہ مقام پر لے جایا گیا، جہاں انہیں چند منٹ کے لیے دھندلے شیشوں والی ایک گاڑی میں اس شخص کے ساتھ بٹھایا گیا جسے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بتایا گیا۔ ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پزشکیان اس شخص کا چہرہ نہیں دیکھ سکے اور بعد میں انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا اندھیرے میں سنائی دینے والی آواز واقعی سپریم لیڈر ہی کی تھی۔
یہ دعویٰ پزشکیان کے عوامی بیان سے کافی مختلف ہے۔ مئی کے وسط میں پزشکیان نے کاروباری تنظیموں کے نمائندوں کی ایک میٹنگ میں کہا تھا کہ انہوں نے نئے لیڈر کے ساتھ ڈھائی گھنٹے ’دوستانہ ماحول‘ میں گزارے۔ لیکن ذرائع کے مطابق یہ ملاقات صرف چند منٹ چلی اور اس کے بعد صدر سے وہاں سے جانے کو کہا گیا۔ بتایا گیا کہ یہ ملاقات بھی دباؤ کے بعد ہی ممکن ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ پزشکیان کی بار بار کی گئی درخواست اور استعفے کی دھمکی کے بعد خامنہ ای کے دفتر نے اس پر رضامندی ظاہر کی، لیکن واضح کر دیا کہ ملاقات معمول کے مطابق لیڈر کی سرکاری رہائش گاہ پر نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق صدر کی سیکورٹی ٹیم انہیں تہران کے ایک نامعلوم مقام پر لے گئی۔ وہاں انہیں ان کی اپنی گاڑی سے اتار کر ایک کاروباری گاڑی کی پچھلی نشست پر بٹھایا گیا، جس کی کھڑکیوں پر گہرے شیشے لگے تھے۔ کہا گیا کہ خامنہ ای پہلے سے وہیں موجود تھے۔ جگہ اتنی تاریک تھی کہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکے۔ خامنہ ای کے محافظوں نے ہاتھ ملانے کی بھی اجازت نہیں دی اور پوری گفتگو صرف آواز کے ذریعے ہوئی۔ صدر کے دفتر سے وابستہ لوگوں کے مطابق پزشکیان اس رویے سے ناراض تھے اور انہوں نے اسے توہین آمیز قرار دیا۔ بعد میں انہوں نے دوسری ملاقات کی درخواست کی، اس بار لیڈر کی رہائش گاہ پر، لیکن یہ درخواست اب تک قبول نہیں کی گئی ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ ان کا تبصرہ غصے میں تھا یا انہیں واقعی شک تھا۔
یہ پورا معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران میں نئے لیڈر خود بھی منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔ ماہرین کی اسمبلی کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے والد کا جانشیں منتخب کیے ہوئے تقریباً 5 ماہ ہو چکے ہیں، لیکن اب تک ان کی ایک بھی ویڈیو جاری نہیں ہوئی ہے۔ یہ خاموشی ایران میں حکومت حامی میڈیا کے درمیان بھی موضوع بحث بن گئی ہے۔
ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں صوتی توانائی، بجلی کے گرڈ کی فریکوئنسی سگنیچر اور پس منظر کی آوازوں کا تجزیہ کرکے نئے لیڈر کے ٹھکانے کا پتہ لگا سکتی ہیں۔ ویڈیو میں یہ بھی کہا گیا کہ ایجنسیاں آواز کی ساخت سے ان کی چوٹوں یا بے چینی کا اندازہ لگا سکتی ہیں۔ اس دعوے نے قیاس آرائیوں کو ختم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے دنیا کے دعوے بھی مختلف ہیں۔ 3 ہفتے قبل امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے مارے جانے کا امکان 90 فیصد ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کے وزیراعظم نے حال ہی میں کہا کہ وہ زندہ ہیں۔ ایران کی حکومت کے اندر بھی اس حوالے سے یکساں بات نہیں کہی جا رہی۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جولائی میں آن لائن پروگرام ’دی اسٹوری آف دی وار‘ میں کہا تھا کہ انہوں نے اس دوران مجتبیٰ خامنہ ای کو نہیں دیکھا اور صرف محدود افراد ہی ان سے ملے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
