’اصلی دشمن پہچانیں آپ‘، لبنانی صدر کے ’سودے بازی‘ والے بیان پر ایران کی نصیحت

لبنانی صدر جوزف عون نے کہا تھا کہ ’’ایران لبنان کو سودے بازی کے لیے مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور اسے ایسا کرنا بند کر کے بات چیت کرنی چاہیے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>عباس عراقچی / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنانی صدر جوزف عون کے ’سودے بازی‘ والے بیان پر طنز کسا ہے۔ انہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے انہیں نصیحت کی کہ وہ اصل دشمن کو پہچاننے کی کوشش کریں۔ عراقچی نے عون کے انٹرویو کا ایک کلپ شیئر کیا، جس میں انہوں نے ایران پر سودے بازی کا الزام لگایا تھا۔ لبنانی صدر نے کہا تھا کہ ’’ایران لبنان کو سودے بازی کے لیے مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور اسے ایسا کرنا بند کر کے بات چیت کرنی چاہیے۔‘‘

عراقچی نے طنز کستے ہوئے لکھا کہ ’’صدر عون کے بیانات کی بنیاد پر تو ایسا لگتا ہے جیسے لبنان کے پانچویں حصے پر ایران نے قبضہ کر رکھا ہو، لبنانی آبادی کے ایک چوتھائی حصے کو بے گھر کر دیا ہو، اور وہ روزانہ ان کے ملک پر بمباری کر رہا ہو۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’اگر لبنان ایران کے لیے سودے بازی کا مہرہ ہوتا تو ہم بہت پہلے ہی کسی معاہدے تک پہنچ چکے ہوتے۔ مسٹر پریذیڈنٹ، لبنان کو اس کے اصل دشمن سے بچائیں۔‘‘


سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں جوزف عون نے کہا کہ ایران لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے اور الزام عائد کیا کہ امریکہ کے ساتھ اپنی بات چیت میں وہ لبنان کو ایک مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے ایران سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’’یہ آپ کا ملک نہیں ہے، یہ ہمارا ملک ہے۔ آپ ہمیں سودے بازی کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جو کہ ناقابل قبول ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے حزب اللہ سے بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس تنازعہ کا خاتمہ تشدد یا جنگ نہیں بلکہ صرف اور صرف مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔ انہیں اسی راستے پر چلنا ہوگا۔‘‘

واضح رہے کہ اب لبنانی فوج بھی حملوں کا نشانہ بن رہی ہے۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق لبنانی فوج نے بتایا کہ ہفتہ کو جنوبی لبنان میں خاردارلی-نباطیہ روڈ پر ایک فوجی گاڑی کو نشانہ بنا کر کیے گئے اسرائیلی حملے میں ایک افسر سمیت کئی لبنانی فوجی مارے گئے۔  لبنانی فوج حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان تصادم میں شامل ہونے سے بچتی رہی ہے اور مسلسل خود کو اس سے الگ رکھنے کی کوشش کرتی ہوئی دکھائی دی ہے۔


دراصل ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو کیے گئے مشترکہ فضائی حملے کے بعد حزب اللہ نے اسرائیل پر میزائل داغنے شروع کر دیے تھے۔ اس کے بعد 2 مارچ سے اسرائیل کی جوابی کارروائی کا آغاز ہوا۔ اس دوران جنوبی لبنان کو نشانہ بنایا جاتا رہا، جہاں 3500 سے زائد افراد کے مارے جانے کی تصدیق لبنانی وزارت صحت نے کی ہے۔ حال ہی میں امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی پر بات بھی بنی، لیکن اس کے باوجود زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں۔

لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی ’این این اے‘ نے بتایا کہ جمعہ کو جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں تقریباً 21 افراد ہلاک ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں میونسپل کونسل کا ایک رکن، 2 شامی بچے اور امداد پہنچانے والا ایک پیرامیڈک بھی شامل ہے۔ لبنانی وزارت صحت نے بچاؤ کی سرگرمیوں میں مصروف کارکنوں کو نشانہ بنانے کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔