لبنان کی تعمیر نو پر زور، اقوام متحدہ سے اعزاز یافتہ میجر ابھیلاشا کا پیغام امن، سفارت کاری سے ہی مسئلے کا حل ممکن
میجر ابھیلاشا براک نے کہا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد صرف سڑکوں اور گھروں کی ہی تعمیر نو نہیں بلکہ جنگ کے ذہنی صدمے کا سامنا کر رہے افراد کو بھی معمول کی زندگی میں واپس لانے کی ضرورت ہوگی۔

ہندوستانی فوج کی میجر ابھیلاشا براک نے لبنان میں امن بحالی اور تعمیر نو کے لیے سفارت کاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ سے متاثرہ ملک میں مستقل حل قائم کرنے کے لیے بات چیت اور جنگ بندی کا جاری رہنا بہت ضروری ہے۔ اقوام متحدہ امن مشن میں تعینات میجر براک نے کہا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد صرف سڑکوں اور گھروں کی ہی تعمیر نو نہیں بلکہ جنگ کے ذہنی صدمے کا سامنا کر رہے افراد کو بھی معمول کی زندگی میں واپس لانے کی ضرورت ہوگی۔
جمعہ کے روز منعقد ایک پریس کانفرنس میں میجر براک نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ بات چیت آگے بڑھے گی، سفارت کاری سرگرم ہوگی اور جنگ بندی جاری رہے گی۔ اس کے بعد ہم متاثرین کی بازآبادکاری پر دھیان دے سکیں گے۔ اس میں صرف بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ہی نہیں بلکہ لوگوں کے ذہنی زخموں کو بھرنا بھی شامل ہے۔
میجر ابھیلاشا براک کو حال ہی میں اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انٹیونیو گوتیرس کی جانب سے سال 2025 کا ’ملٹری جینڈر ایڈووکیٹ آف دی ایئر‘ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ میجر براک کی تعریف کرتے ہوئے گوتیرس نے انہیں ایک بہترین مثال بتایا اور کہا کہ انہوں نے فرنٹ لائن پر کمانڈر کے طور پر ہزاروں خواتین اور لڑکیوں تک رسائی حاصل کرکے تعلیم، صحت اور کمرشیل تعلیمی پروگراموں کے ذریعہ ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی کی ہے۔
میجر براک فی الحال لبنان میں اقوام متحدہ عارضی فورس (یو این آئی ایف آئی ایل) میں ہندوستانی بٹالین کے ساتھ انگیجمنٹ ٹیم کمانڈر اور جینڈر فوکل پوائنٹ کے طور پر تعینات ہیں۔ یو این آئی ایف آئی ایل جنوبی لبنان میں کام کرتی ہے، جہاں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ جاری ہے۔ اسے اقوام متحدہ کے سب سے خطرناک امن مشن میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور مارچ سے اب تک 7 امن فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ لبنان میں جاری تنازعے کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ثالثی میں جنگ بندی نافذ کر دی گئی ہے، حالانکہ خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ اس تنازعے نے لبنان کے کئی حصوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔
میجر براک نے اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی ترجیح مقامی برادری بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ بات چیت قائم کرنا تھا کیونکہ کئی خواتین مرد امن فوجیوں کے ساتھ بات چیت کرنے سے ہچکچاتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین کی خود اعتمادی اور اقتصادی طور سے مضبوط بنانے کے لئے کمرشیل تربیتی پروگرام چلائے گئے۔ اس کے ساتھ ہی تعلیم اور صحت سے متعلق بیداری مہم، جسمانی فٹنیس سرگرمیاں، تفریحی پروگرام اور ثقافتی تبادلہ پروگرام بھی منعقد کئے گئے۔
میجر ابھیلاشا براک ہندوستانی فوج کی پہلی خاتون کامبیٹ ہیلی کاپٹر پائلٹ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایئر ٹریفک کنٹرولر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ اقوام متحدہ مشن میں ان کے تعاون کو خواتین کو با اختیار بنانے اور برادریوں میں اعتماد سازی کی سمت میں ایک اپم کامیبی مانا جارہا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
