ایران نے حالیہ مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے تقریباً 3 ہزار لوگوں کی فہرست جاری کر دی
گزشتہ سال دسمبر کے آخر سے رواں سال جنوری تک ایران میں کئی ہفتوں تک مظاہرے ہوئے۔ یہ مظاہرے ملک کی کرنسی ریال کی قدر میں تیزی سے کمی کی وجہ سے شروع ہوئے تھے۔

ایران کے صدر مسعود پیزشکیان کے دفتر نے ملک میں حالیہ مظاہروں کے دوران مارے گئے لوگوں کی ایک فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست میں 2986 لوگوں کے نام شامل ہیں۔ آئی این ایس کی رپورٹ کے مطابق، اتوار (یکم فروری) کو صدر کے دفتر کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ ’’یہ فہرست صدر کی ہدایت پر ایران کی قانونی طبی تنظیم سے حاصل کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ اس میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ سیکورٹی فورسز کے جوانوں کے نام بھی شامل ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھیں : ایران میں معاشی بحران کے خلاف جاری مظاہرہ 21 صوبوں تک پہنچا
صدارتی دفتر کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 3117 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ ان میں سے 131 لوگوں کی شناخت ابھی نہیں ہو پائی ہے۔ نیوز ایجنسی ’شنہوا‘ کی رپورٹ کے مطابق ان کی شناخت ہونے کے بعد ایک اضافی فہرست جاری کی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت مکمل شفافیت اور جوابدہی کے لیے پرعزم ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرنے والے تمام لوگ ایران کے اپنے بچے تھے کسی بھی متاثرہ خاندان کی بات کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر کے آخر سے رواں سال جنوری تک ایران میں کئی ہفتوں تک مظاہرے ہوئے۔ یہ مظاہرے ملک کی کرنسی ریال کی قدر میں تیزی سے کمی کی وجہ سے شروع ہوئے تھے۔ شروع میں یہ مظاہرے پرامن تھے، لیکن بعد میں جھڑپوں میں تبدیل ہو گئے۔ اس دوران جان و مال کے نقصان کے ساتھ ساتھ مساجد، سرکاری عمارتوں اور بینکوں کو بھی نقصان پہنچا۔ ایران نے ان واقعات کے لیے امریکہ اور اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
اس درمیان ایران کے فوجی سربراہ امیر حاتمی نے گزشتہ ہفتہ وارننگ دی تھی کہ اگر امریکہ کوئی بھی غلطی کرتا ہے تو اس سے اس کی اپنی سلامتی، اسرائیل کی سلامتی اور پورے مغربی ایشیا کے خطے کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ تہران میں ایک پروگرام کے دوران بولتے ہوئے حاتمی نے کہا کہ ’’آج اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج مکمل طور سے دفاعی اور عسکری تیاریوں میں ہیں اور خطے میں دشمن کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھ رہے ہیں۔ ہماری انگلی ٹرگر پر ہے، اگر دشمن کوئی غلطی کرتا ہے تو یہ بلاشبہ اپنی سلامتی، اسرائیل اور خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دے گا۔‘‘
ایران کے فوجی سربراہ امیر حاتمی نے اپنے پڑوسی ممالک کے ان اعلانات کا بھی استقبال کیا کہ وہ اپنی زمین یا فضائی حدود کا استعمال ایران کے خلاف نہیں ہونے دیں گے، کیونکہ یہ ممالک جانتے ہیں کہ ایران کے خلاف کوئی بھی عدم تحفظ پورے خطے کو غیر محفوظ بنا دے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اگر دوسرا فریق حقیقی طور پر اس مسئلہ کو حل کرنا چاہتا ہے تو اسے ایرانی عوام کے ساتھ احترام سے پیش آنا چاہیے۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں کافی اضافہ ہوا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کی قیادت میں ایک بڑا فوجی بیڑہ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے اور ایران کے پاس امریکہ سے سمجھوتہ کرنے کے لیے زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایران امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ نہیں کرتا ہے تو یہ دیکھا جائے گا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی وارننگ صحیح ثابت ہوتی ہے یا نہیں۔ خامنہ ای نے کہا تھا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو اس سے پورے خطے میں جنگ چھڑ سکتی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔