ایران میں معاشی بحران کے خلاف جاری مظاہرہ 21 صوبوں تک پہنچا

ایران میں دسمبر 2025 سے جاری حکومت مخالف مظاہرے بنیادی طور پر اقتصادی بحران کی وجہ سے شروع ہوئے ہیں، جہاں ایرانی کرنسی ریال ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران میں حکومت کے خلاف احتجاج کا دائرہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ ایرانی انتظامیہ کے خلاف شہریوں کی یہ بغاوت چوتھے دن میں اور 2025 سے 2026 میں داخل ہو گئی ہے۔ اب مظاہرین ایران میں اقتدار کی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایران میں جمعرات کو مسلسل پانچویں دن ملک گیر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے کئی شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ اب مظاہرین ایران میں اقتدار کی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین اصفہان، ہمدان، بابول، دہلران، باغ ملک اور پیان جیسے شہروں میں سڑکوں پر اتر آئے، انہوں نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگائے۔ ساتھ ہی جلاوطن شہزادے رضا پہلوی کی حمایت کی اور گزشتہ بغاوتوں میں مارے گئے مظاہرین کو یاد کیا۔ مجموعی طور پر یہ احتجاج ایران کے 21 صوبوں تک پہنچ چکا ہے۔


واضح رہے کہ ایران میں دسمبر 2025 سے جاری حکومت مخالف مظاہرے بنیادی طور پر اقتصادی بحران کی وجہ سے شروع ہوئے ہیں، جہاں ایرانی کرنسی ریال ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ مظاہرے 2022 کے مہسا امینی تحریک کے بعد سب سے بڑے ہیں اور اب چوتھے دن تک پھیل چکے ہیں۔ ایران میں یہ مظاہرے 28 دسمبر کو تہران کے گرینڈ بازار سے شروع ہوئے جہاں دکانداروں نے ہڑتال کی تھی۔

ریال کی قدر میں نمایاں کمی کے بعد ایران میں مہنگائی اس وقت قہر برپا رہی ہے، مہنگائی کی شرح 42 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ روزمرہ زندگی کے اخراجات بڑھنے سے عوام بے حال ہیں اور سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ یہی نہیں اصفہان میں رات کے وقت مظاہرین نے ’ڈرو مت، ہم سب ساتھ ہیں‘ اور ’تانا شاہ مردہ باد‘ کے نعرے لگائے۔ جبکہ دہلران اور باغ ملک میں مظاہرین نے بادشاہت کی حمایت میں نعرے بازی کی۔ کئی لوگوں نے ایران کے سابق حکمران رضا شاہ پہلوی کی حمایت میں نعرے لگائے۔


مظاہرین کے حوصلے پست کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے کئی جگہوں پر طاقت کا استعمال کیا۔ نہاوند، اسد آباد اور ہمدان جیسے شہروں میں فائرنگ اور آنسو گیس کے گولے داغے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں، لیکن وہاں مظاہرین ثابت قدم دکھائی دیے۔ تہران میں تہران یونیورسٹی کی ایک طالبہ رہنما سریرا کریمی کو ان کے گھر پر چھاپے کے بعد حراست میں لے لیا گیا ہے۔ گرفتاری کے بعد سریرا کریمی کو کہاں لے جایا گیا اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اس احتجاج کو اب علماء کی حمایت بھی ملنا شروع ہو گئی ہے۔ معروف ثقافتی اور مذہبی شخصیات نے بھی اس پر اپنی رائے دی ہے۔ سنی عالم دین مولوی عبدالحمید نے کہا کہ معیار زندگی کی خراب صورت حال اور سیاسی تعطل اس بغاوت کی وجہ بن رہے ہیں۔ مشہور فلم ساز جعفر پناہی نے اس بدامنی کو تاریخ کو آگے بڑھانے کے لیے ایک بغاوت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مشترکہ درد اب سڑکوں پر ایک چیخ میں بدل گیا ہے۔‘‘ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ مغربی سیاست داں مسلسل مظاہرین کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ امریکی سینیٹر رِک اسکاٹ نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر حوصلہ ملا کہ ایرانی لوگ ایران کی ظالم تانا شاہی کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ایرانی عوام سے بُری حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل کی۔