’آبی گزرگاہ تہران کے کنٹرول میں‘، آبنائے ہرمز پر قبضہ سے متعلق ٹرمپ کے دعویٰ کو ایران نے پھر کیا خارج

آئی آر جی سی کی بسیج فورس کے سربراہ حسین طائب نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے اس اسٹریٹجک سمندری راستے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>آبنائے ہرمز، تصویر اے آئی</p></div>
i

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل آبنائے ہرمز کو لے کر دونوں ممالک آمنے سامنے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے اور وہ اسے برقرار رکھے گا، جبکہ ایران نے ایک بار پھر ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اب بھی تہران کے دائرۂ اختیار میں ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بسیج فورس کے سربراہ حسین طائب نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے اس اسٹریٹجک سمندری راستے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ طائب نے کہا کہ آبنائے ہرمز اب بھی ایران کے کنٹرول اور انتظام میں ہے اور ملک مکمل تحفظ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔


دراصل ٹرمپ نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم اسے برقرار رکھیں گے!‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ہماری بحری ناکہ بندی کو ہر کوئی ’فولاد کی دیوار‘ کہہ رہا ہے، اور ایران اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘

ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ تہران مسلسل یہ واضح کرتا رہا ہے کہ اس اہم سمندری راستے پر اس کا اختیار برقرار ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی آبنائے ہرمز کو لے کر امریکہ کے دعوے کی مذمت کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’خفیہ معلومات جمع کرنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے امریکہ طویل عرصہ سے غلط اندازے لگاتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ۔ اسی طرح اب آبنائے ہرمز کے بارے میں اس سے بھی بڑا غلط اندازہ۔‘‘


اس کے علاوہ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن بہنام سعیدی نے بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ بحری جہازوں کی آمد و رفت پر پابندی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی بحری جہازوں کو جنگ ہو یا امن، کسی بھی صورت میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی فوجی بحری جہازوں کو بھی یہاں سے گزرنے نہیں دیا جائے گا۔

اس دوران ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے اندر ایک متبادل سمندری راستہ تیار کرنے سے متعلق الگ الگ بات چیت جاری ہے۔ تاہم، ابھی تک اس سلسلے میں کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ نیا راستہ بننے کی صورت میں بھی معمول کی بحری آمد و رفت فوری طور پر بحال ہونے کی ضمانت نہیں ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ معمول کی بحری آمد و رفت بحال کرنے سے پہلے امریکہ کو اس کے وسیع سفارتی مطالبات پر توجہ دینی ہوگی۔


قابل ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ یہاں کسی بھی طرح کی فوجی کشیدگی بڑھنے پر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں اور توانائی کی فراہمی پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ موجودہ کشیدگی کے درمیان کئی تجارتی بحری جہازوں نے اپنے راستوں میں تبدیلی کی ہے۔ خطے میں بحری گشت بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ تاہم، حفاظتی انتظامات کے درمیان تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت جاری ہے، لیکن حالات انتہائی حساس بنے ہوئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔