امریکہ یا ایران دونوں میں سے کون زیادہ ہوشیار ہے!

ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران بہت ہوشیار ہے۔ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے فوجی کارروائی ضروری تھی۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ کیا ہے اور دوسری جانب ایران نے امریکہ اور ٹرمپ پر حملہ کیا ہے۔ایک بیان میں ٹرمپ نے ایران کے ارادوں پر سوال اٹھایا اور تہران کے خلاف سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے ایران پر بے ایمانی کا الزام لگایا اور بڑے حملے کا انتباہ دیا۔ ذرائع کے مطابق ایران نے بھی ٹرمپ کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے فوجی کارروائی ضروری ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران بہت ہوشیار  ہے۔ ایک معاہدہ طے پا جانے کے بعد بھی وہ پریس میں اپنی بات پر واپس چلا جاتا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ "ایرانی شروع میں خاموشی سے مذاکرات کریں گے، لیکن پھر فوراً اپنے الفاظ سے مکر جائیں گے اور وہ مذاکرات کے لیے بہت ہوشیار  ہیں۔" وہ کسی چیز سے اتفاق کرتے ہیں، لیکن پھر باہر جا کر پریس کو بتا تے ہیں  کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہاں افراط زر 300فیصد سے زیادہ  ہے۔ ان کی کرنسی تقریباً بیکار ہے۔ وہ اپنے فوجیوں کو تنخواہ نہیں دے سکتے۔ فوجی اپنی ملازمتیں چھوڑ رہے ہیں۔ یہ صورت حال زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ٹرمپ نے یہ باتیں ایک انٹرویو میں کہیں۔ یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم ایران کے پیسے کو کنٹرول کرتے ہیں اور اس پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے۔


دریں اثنا، ایران کا اصرار جاری ہے کہ کسی بھی بڑے معاہدے میں پابندیاں ہٹانا، ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی اور تنازع کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ شامل ہونا چاہیے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ جنگ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ضروری تھی۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ فوری فوجی تصادم پر اقتصادی دباؤ کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن واشنگٹن کے پاس اہم فوجی صلاحیتیں ہیں۔ امریکہ بڑا طاقتور ملک ہےاور  وہ  ایران پر حملہ کر سکتا ہے، تاہم اس نے سفارت کاری کے دائرہ کار کو ترجیح دی ہے۔ دریں اثنا، ایران نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی جامع معاہدے کی طرف اس وقت تک آگے نہیں بڑھے گا جب تک کہ واشنگٹن پہلے پابندیاں نہیں ہٹاتا، ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، منجمد ایرانی اثاثے جاری نہیں کرتا، اور جنگ سے متعلق نقصانات کا معاوضہ فراہم نہیں کرتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران اور امریکہ میں سے کون زیادہ ہوشیار ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔