عمان اور ایران کے مابین آبنائے ہرمز سے متعلق ڈیل فائنل، بنایا جائے گا نیا راستہ!
خبر رساں ایجنسی ’آئی آر این اے‘ کی رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی نے اتوار کے روز کابینہ کی میٹنگ میں کہا کہ ’’بات چیت آگے بڑھی ہے اور اب یہ حتمی شکل اختیار کرنے کی جانب گامزن ہے۔‘‘

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’’آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران اور عمان کے مابین جاری مذاکرات اب آخری مراحل میں ہیں۔‘‘ سرکاری خبر رساں ایجنسی ’آئی آر این اے‘ کی رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی نے اتوار کے روز کابینہ کی میٹنگ میں کہا کہ ’’بات چیت آگے بڑھی ہے اور اب یہ حتمی شکل اختیار کرنے کی جانب گامزن ہے۔‘‘ خبر رساں ایجنسی ’شنہوا‘ کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز سرکاری ’آئی آر آئی بی‘ ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران اور عمان مذاکرات کے متعلق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تفصیلات بتائیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’دونوں ممالک کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کا تعلق اس سے نہیں ہے کہ آبی گزرگاہ دوبارہ کھلے گی یا بند رہے گی۔‘‘
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’’ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ کے تحت ایک نیا راستہ طے کرنے پر کام کر رہے ہیں، جو فریقین کے خود مختاری کے حقوق کے ساتھ ساتھ ایران کے قومی مفادات اور سیکورٹی کو بھی یقینی بنا سکیں۔‘‘ ایران کے قائم مقام وزیر دفاع سید ماجد ابن الرضا نے اتوار کے روز کہا کہ ’’تہران دشمن کی ہر دھمکی کو اصل اور قابل توجہ مانتا ہے، اسے محض نفسیاتی جنگ سمجھنے سے انکار کرتا ہے۔ ماجد ابن الرضا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ہم نہ تو حیران ہوں گے اور نہ ہی خاموشی سے بیٹھے رہیں گے۔ ہم دھمکیوں کا استعمال اپنی تیاری بڑھانے، اپنی مزاحمتی صلاحیت کو مضبوط کرنے اور اپنی طاقت بڑھانے کے لیے کرتے ہیں۔‘‘
ان خیالات کا اظہار انہوں نے تب کیا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران پر نئے حملے نہ کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ ایران کے خلاف مشترکہ حملے کیے جانے کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ امریکی فوج نے گزشتہ مہینے ایرانی ٹھکانوں پر کئی حملے کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایران کے کیے گئے حملوں کے جواب میں تھے اور ان کا مقصد ’تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بننے کی ایران کی صلاحیت کو کم کرنا‘ تھا۔ اس کے جواب میں ایران نے اس علاقے میں امریکی فوجی ٹھکانوں اور سہولیات کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
