جاپان اور ہندوستان کے درمیان چار نئے شعبوں میں بڑھے گا تعاون

وزیر اعظم  مودی جاپان کے دورے پر ہیں، اس کے بعد وہ چین جائیں گے اور ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ جہاں روس اور چین کے ساتھ نئے معاہدے ممکن ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویربشکریہ آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

اب تک صدر ٹرمپ نے زیادہ تر فیصلے یہ سوچ کر کیے ہیں کہ دنیا کو امریکہ کی ہر بات ماننا پڑے گی۔ صدر ٹرمپ ان فیصلوں کی مخالفت کرنے والے کسی بھی ملک کے خلاف سختی سے نمٹیں گے اور بالآخر دنیا امریکہ کے گرد گھومتی رہے گی۔ لیکن اس بار امریکہ کی من مانی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اب روس، ہندوستان اور چین کے درمیان صورتحال کی مثلث بن رہی ہے۔

وزیر اعظم مودی سات سال بعد ایس سی اور سربراہی  کانفرنس میں شرکت کے لیے چین جا رہے ہیں، لیکن اس سے پہلے وہ جاپان کے دورے پر ہیں۔ چین اور جاپان کے تعلقات میں تناؤ ہے اور اس کشیدگی کی وجہ انڈو پیسیفک خطے کی سلامتی ہے۔ جاپان پہلے ہی کویڈ کے پلیٹ فارم پر چین کے ارادوں اور اس کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔اب اس توازن کو بنانے میں ہر فیصلہ ہندوستان کا  اپنا ہے۔ ہندوستان اس وقت ایسی صورتحال سے دوچار ہے جہاں ہندوستان  ہر ملک کے ساتھ توازن رکھ رہا ہے اور وہ  یہ دیکھ رہا ہے کہ ہندوستان کے مفادات کہاں محفوظ ہیں۔


آئی ایم ایف کے مطابق، اس سال ہندوستان کی معیشت نے جاپان کی معیشت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اب جاپان دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے اور ہندوستان چوتھی بڑی معیشت ہے۔ دراصل، جاپان چاہتا ہے کہ اسے بھی ہندوستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت سے فائدہ پہنچے اور اسی لیے اب اس نے اگلے دس سالوں میں ہندوستان میں تقریباً چھہ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جب یہ سارا پیسہ ہندوستان کی معیشت اور اس کی پیداواری صلاحیت پر خرچ ہوگا تو ہندوستان میں نئے کارخانے لگیں گے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار ملے گا۔

جن چار نئے شعبوں میں ہندوستان جاپان کے ساتھ تعاون بڑھانے جا رہا ہے، ان میں پہلا سیمی کنڈکٹر چپس ہے، دوسرا اہم معدنیات ہے، تیسرا شعبہ مصنوعی ذہانت ہے اور چوتھا شعبہ فارماسیوٹیکل یعنی ادویات کی مارکیٹ ہے۔ سال 2024-25 میں، ہندوستان اور جاپان کے درمیان کل 2 لاکھ 13 ہزار کروڑ روپے کی تجارت ہوئی، جس میں ہندوستان  نے جاپان سے 1 لاکھ 59 ہزار کروڑ روپے کا سامان خریدا، جب کہ ہندوستان  نے جاپان کو 52 ہزار 909 کروڑ روپے کا سامان فروخت کیا۔


یہ تمام اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اگر ٹیرف کی وجہ سے ہندوستان کی امریکہ کو برآمدات متاثر ہو رہی ہیں تو وہ جاپان میں بھی اپنا سامان بیچ سکتا ہے اور ہندوستان جاپانی کمپنیوں اور کارخانوں کو بھی اپنے ملک میں لا سکتے ہیں، جس کا اظہار وزیر اعظم مودی نے بھی کل دونوں ملکوں کے مشترکہ اقتصادی فورم میں کیا۔ وزیر اعظم مودی اور جاپانی وزیر اعظم شیگیرو ایشیبا کے درمیان کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں، جنہیں پوری دنیا کے سامنے رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ جاپان کے ایک مندر نے وزیر اعظم مودی کو ایک گڑیا تحفے میں دی ہے جسے داروما گڑیا کہا جاتا ہے۔ اسے جاپان کی یادگار بھی سمجھا جاتا ہے، یہ گڑیا بودھی دھرم پر مبنی ہے۔جاپان میں اسے داروما داشی بھی کہا جاتا ہے۔ اسے ثابت قدمی اور خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور روایت کے مطابق جب کوئی مقصد طے ہوتا ہے تو اس گڑیا کی ایک آنکھ بھر جاتی ہے اور جب یہ مقصد حاصل ہوتا ہے تو اس کی دوسری آنکھ بھی بھر جاتی ہے۔ جاپان کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ یادگار انہیں کبھی ہمت نہ ہارنے کی ترغیب بھی دیتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس گڑیا کے نیچے کی شکل گول ہے جس کی وجہ سے اگر اسے نیچے گرا بھی دیا جائے تو یہ گڑیا دوبارہ کھڑی ہو جاتی ہے۔ جاپان میں اس کے لیے ایک کہاوت بھی ہے کہ سات بار گرتے ہیں لیکن آٹھویں بار کھڑے ہوتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔