ہند-جاپان بزنس فورم: وزیر اعظم مودی نے ٹوکیو میں 5 نکاتی روڈمیپ پیش کیا
ٹوکیو میں ہند-جاپان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے 5 نکاتی روڈمیپ پیش کیا۔ انہوں نے مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی، گرین انرجی، انفراسٹرکچر اور اسکل ڈیولپمنٹ کو تعاون کی بنیاد قرار دیا

ٹوکیو: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز ٹوکیو میں جاپان کے وزیر اعظم شیگرو ایشیبا کے ساتھ ہند-جاپان اکنامک فورم میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی اقتصادی شراکت داری کو اُجاگر کیا اور مستقبل میں تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے 5 نکاتی روڈمیپ پیش کیا۔
وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ابھی ہند-جاپان بزنس فورم کی رپورٹ پیش کی گئی ہے جس میں کمپنیوں کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ انہوں نے اس پیش رفت پر سبھی صنعت کاروں کو مبارکباد دی اور مزید تعاون کے لیے پانچ اہم شعبوں کو نشان زد کیا: مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن، گرین انرجی ٹرانزیشن، نیکسٹ جنریشن انفراسٹرکچر اور اسکل ڈیولپمنٹ۔
مینوفیکچرنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور جاپان کی آٹو انڈسٹری میں شراکت داری کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ اسی طرز پر بیٹری، روبوٹکس، سیمی کنڈکٹر، شپ بلڈنگ اور نیوکلیئر انرجی جیسے شعبوں میں بھی مشترکہ کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ مودی نے زور دیا کہ دونوں ممالک مل کر خصوصاً افریقی ممالک سمیت گلوبل ساؤتھ کے ترقیاتی سفر میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی اور انوویشن کے حوالے سے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جاپان ایک ’ٹیک پاور ہاؤس‘ ہے جبکہ ہندوستان ایک "ٹیلنٹ پاور ہاؤس"۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہندوستان نے اے آئی، سیمی کنڈکٹر، کوانٹم کمپیوٹنگ، بایوٹیک اور خلائی تحقیق جیسے شعبوں میں نمایاں اقدامات کیے ہیں۔ مودی کے مطابق، جاپانی ٹیکنالوجی اور ہندوستانی صلاحیتیں مل کر اس صدی کی ٹیک انقلاب کی قیادت کر سکتی ہیں۔
گرین انرجی کے ضمن میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان 2030 تک 500 گیگاواٹ رینیوایبل انرجی کے ہدف کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے جبکہ 2047 تک 100 گیگاواٹ نیوکلیئر پاور پیدا کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سولر سیلز اور گرین ہائیڈروجن کے میدان میں شراکت داری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اس سلسلے میں ہندوستان اور جاپان کے درمیان "جوائنٹ کریڈٹ میکنزم" پر طے پانے والے معاہدے کو بھی کلین اور گرین فیوچر کے لیے اہم قرار دیا۔
نیکسٹ جنریشن انفراسٹرکچر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان نے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے ڈھانچے میں نمایاں ترقی کی ہے، جس میں ایک ہزار کلومیٹر سے زائد میٹرو نیٹ ورک کی تعمیر شامل ہے۔ مودی نے ممبئی-احمد آباد ہائی اسپیڈ ریل پراجیکٹ میں جاپان کے تعاون کو سراہا اور کہا کہ یہ سفر ابھی مزید آگے بڑھے گا۔
اسکل ڈیولپمنٹ پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان کی نوجوان افرادی قوت دنیا کی ضروریات پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ جاپانی زبان اور سافٹ اسکلز کی تربیت دے کر ایک "جاپان ریڈی ورک فورس" تیار کی جائے، جس سے دونوں ممالک کو یکساں فائدہ ہوگا۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان اور جاپان کے درمیان شراکت داری نہ صرف اسٹریٹجک ہے بلکہ اسمارٹ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعاون پورے خطے کے استحکام، ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنائے گا اور مل کر دونوں ممالک ایشیائی صدی کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔