’مجھے امن کا نوبل انعام نہیں دیا، اب دنیا میں امن قائم کرنا میری ذمہ داری نہیں‘، ٹرمپ کا خط سرخیوں میں

ناروے کے وزیر اعظم کو ایک خط میں ٹرمپ نے لکھا کہ ’آپ کے ملک نے 8 سے زائد جنگیں رکوانے کے باوجود مجھے نوبل کا امن انعام نہیں دیا، اب مجھے صرف امن کے بارے میں سوچنے کی کوئی ذمہ داری محسوس نہیں ہوتی۔‘

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نوبل انعام نہ ملنے سے کس قدر ناراض ہیں، اس کا اندازہ ناروے کے وزیر اعظم جوناس گہر اسٹور کو بھیجے گئے ایک خط سے لگایا جا سکتا ہے۔ خط میں ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ اب دنیا میں امن کے بارے میں سوچنے کی ذمہ داری ان کی نہیں ہے۔ ٹرمپ کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی ان کی کوشش نوبل کا امن انعام نہ ملنے کی مایوسی سے منسلک ہے۔ یہ تمام تر معلومات پبلک براڈکاسٹنگ سروس (پی بی ایس) نے دی ہے۔

موصولہ اطلاع کے مطابق خط میں ٹرمپ نے اشارہ کیا ہے کہ نوبل انعام نہ ملنے کے بعد عالمی معاملوں کو دیکھنے کا ان کا نظریہ بدل گیا ہے۔ انہوں نے ناروے کے وزیر اعظم کو لکھا کہ ’’آپ کے ملک نے 8 سے زائد جنگیں رکوانے کے باوجود مجھے نوبل کا امن انعام نہیں دیا، اسے دیکھتے ہوئے اب مجھے صرف امن کے بارے میں سوچنے کی کوئی ذمہ داری محسوس نہیں ہوتی۔ حالانکہ امن ہمیشہ اہم رہے گا، لیکن اب میں اس بارے میں بھی سوچ سکتا ہوں کہ امریکہ کے لیے کیا صحیح اور مناسب ہے۔‘‘ ٹرمپ نے خط میں یہ بھی لکھا کہ امن کی سمت میں بڑے کام کرنے کے باوجود انہیں نوبل کا امن انعام نہیں ملا تو اب وہ گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی سمت میں سخت قدم اٹھا سکتے ہیں۔


قابل ذکر ہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا ایک خود مختار علاقہ ہے، لیکن ٹرمپ نے خط میں ڈنمارک کے اس دعوے کو خارج کیا ہے۔ انہوں نے ڈنمارک کی خود مختاری پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے دلیل دی کہ ڈنمارک روس یا چین سے اس جزیرے کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے خط میں لکھا ہے کہ ’’ڈنمارک اس زمین کو روس یا چین سے محفوظ نہیں رکھ سکتا تو پھر ان کے پاس مالکانہ حق کیوں ہے؟ کوئی تحریری دستاویز نہیں ہے، صرف اتنا ہے کہ سینکڑوں سال پہلے وہاں ایک کشتی پہنچی تھی، لیکن ہماری کشتیاں بھی وہاں پہنچی تھیں۔‘‘ واضح رہے کہ نوبل کا امن انعام ناروے کی حکومت نہیں، بلکہ ایک آزاد کمیٹی کی طرف سے دیا جاتا ہے۔

غور طلب ہے کہ ناروے کے وزیر اعظم جوناس گہر اسٹور نے مقامی اخبار ’افٹین پوسٹن‘ سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں ٹرمپ کا خط موصول ہوا ہے۔ جوناس گہر اسٹور نے بتایا کہ انہوں نے فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب کے ساتھ مل کر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک خط بھیجا تھا، جس میں ناروے اور فِن لینڈ سمیت کئی دیگر ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی مخالفت کی گئی تھی۔ اس خط کے جواب میں ٹرمپ نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ناروے کے وزیر اعظم نے کہا کہ ’’میں تصدیق کرتا ہوں کہ یہ وہی باتیں ہیں جو مجھے کل دوپہر صدر ٹرمپ سے موصول ہونے والے خط میں لکھی گئی تھیں۔ میں نے فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب کے ساتھ مل کر ٹرمپ کو ایک خط بھیجا تھا، جس کے جواب میں انہوں نے مجھے یہ خط بھیجا ہے۔‘‘ پی بی ایس کے صحافی نک شیفرین کے مطابق اسی طرح کے خط واشنگٹن میں کئی یورپی سفیروں کو بھی بھیجے گئے ہیں۔


بہرحال، ٹرمپ کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ گرین لینڈ کی ملکیت سے کم کسی بات کو قبول نہیں کریں گے۔ اس سے قبل انہوں نے ڈنمارک پر آرکٹک علاقے کے قریب مبینہ روسی خطرے سے نمٹنے میں ناکام رہنے کا الزام عائد کیا تھا۔  ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’’ناٹو گزشتہ 20 سالوں سے ڈنمارک سے کہتا آ رہا ہے کہ آپ کو گرین لینڈ سے روسی خطرے کو دور کرنا ہوگا۔ بدقسمتی سے ڈنمارک کچھ نہیں کر پایا۔ اب وقت آ گیا ہے اور یہ ہو کر رہے گا۔‘‘ دوسری جانب ڈنمارک اور گرین لینڈ دونوں لیڈران نے ٹرمپ کے موقف کو خارج کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ برائے فروخت نہیں ہے اور یہ امریکہ کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔

ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے کی مخالفت کر رہے اپنے یورپی اتحادیوں پر معاشی دباؤ کی دھمکی دی ہے۔ ہفتہ (17 جنوری) کو انہوں نے کہا کہ جب تک امریکہ کو گرین لینڈ خریدنے کی اجازت نہیں دی جاتی، تب تک وہ یورپی اتحادیوں پر مسلسل اضافی ٹیرف عائد کرتے رہیں گے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ چین اور روس کی بڑھتی موجودگی گرین لینڈ کو امریکی سلامتی کے لحاظ سے اسٹریٹجک طور پر اہم بناتی ہے۔ جبکہ ڈنمارک اور یورپی افسران اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ گرین لینڈ پہلے سے ہی ناٹو کے اجتماعی دفاعی انتظامات کے تحت آتا ہے۔