گرین لینڈ پر قبضہ کا منصوبہ فی الحال ملتوی! تنازع کے سبب ٹرمپ سفارتکاری کا راستہ اختیار کرنے مجبور
نیٹو کی طرف سے 6 ممالک کے فوجی بھیجے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی جیف لینڈری نے کہا کہ وہ مارچ میں گرین لینڈ کا دورہ کریں گے اور انہیں یقین ہے کہ کوئی سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔

گرین لینڈ کے حوالے سے جاری تنازع کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ارادوں کے بارے میں اب نئے اشارے سامنے آئے ہیں۔ براہ راست کسی کارروائی کے بجائے ٹرمپ انتظامیہ سفارتی راستہ اختیار کرتی نظر آتی ہے۔ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی جیف لینڈری نے کہا ہے کہ وہ مارچ میں گرین لینڈ کا دورہ کریں گے اور انہیں یقین ہے کہ کوئی سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : گرین لینڈ کے لوگوں میں ٹرمپ کی دھمکی کے بعد خوف کا ماحول
’فاکس نیوز‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں جیف لینڈری نے کہا کہ میرے خیال میں ایک ڈیل ممکن ہے اور یہ ہو جائے گا۔ صدر اس معاملے پر سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے ڈنمارک کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ لینڈری کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اس وقت کسی بھی فوری کارروائی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھنے کو ترجیح دیتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے خود گرین لینڈ کو امریکی قومی سلامتی سے متعلق اہم مسئلہ قرار دیا ہے۔ جمعہ کو اپنے تازہ ترین بیان میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ نیٹو اس معاملے پر امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور گرین لینڈ کے بغیر امریکی سیکورٹی کے ڈھانچے میں ایک ’بڑا سوراخ‘ رہ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرین لینڈ امریکہ کی عسکری حکمت عملی اور سرمایہ کاری کے لیے ناگزیر ہے۔
اس دوران ٹرمپ نے قدرے دھمکی آمیز لہجے میں مزید کہا کہ امریکہ کے پاس دنیا کی سب سے مضبوط فوج ہے، جو مزید طاقتور ہو رہی ہے۔ انہوں نے حالیہ بین الاقوامی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے یہ وینزویلا کے معاملے میں یہ دیکھ لیا ہے۔ آپ نے یہ ایران پر حملے میں، ان کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کرنے میں یہ دیکھا ہے۔
ٹرمپ نے امریکی فوج کی تعریف یوں ہی نہیں کی ہے۔ دراصل نیٹو کے 6 ممالک نے گرین لینڈ میں اپنے کچھ فوجی بھیجے ہیں۔ اس میں جرمنی، فرانس، سویڈن، ناروے، نیدرلینڈز اور برطانیہ شامل ہیں۔ یہ دستے ایک فوجی مشق کی تیاریوں کے لیے وہاں گئے ہیں لیکن اسے ٹرمپ کو پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ گرین لینڈ اور ڈنمارک اکیلے نہیں ہیں۔ یورپی ممالک ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حالانکہ مارچ میں مجوزہ دورے اور معاہدے کی باتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس وقت ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضے جیسا کوئی فوری قدم اٹھانےکی بجائے اسٹریٹجک اور سفارتی منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔