طالبان مخالف افغانستان کے سابق نائب صدر امراللہ صالح پنج شیر سے تاجکستان فرار

الجزیرہ نے ذرائع کے حوالے سے امراللہ صالح کے تاجکستان روانہ ہونے کی خبر دی ہے، اور طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ سابق نائب افغان صدر افغانستان سے فرار ہو گئے ہیں۔

امراللہ صالح
امراللہ صالح
user

یو این آئی

کابل: طالبان کے افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد خود کو نگراں صدر قرار دینے والے سابق نائب صدر امر اللہ صالح صوبہ پنجشیر سے تاجکستان کے لئے روانہ ہو گئے۔ الجزیرہ نے یہ اطلاع پیر کو سابق افغان انتظامیہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے دی۔ انہوں نے بتایاکہ مسٹر صالح پنجشیر میں طالبان اور مزاحمتی فورسز کے درمیان کل رات لڑائی کے بعد تاجکستان روانہ ہوگئے۔ اس سے پہلے دن طالبان نے پنجشیر پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا تھا، جو پہلے مسٹر صالح اور احمد مسعود کی قیادت میں مزاحمت کا آخری گڑھ بنا رہا۔

اس درمیان افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق نائب افغان صدر امر اللہ صالح افغانستان سے فرار ہو گئے ہیں۔ وادی پنجشیر کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان مذاکرات چاہتے تھے لیکن مزاحمتی محاذ نے منفی جواب دیے جس کے باعث لڑائی کی نوبت پیش آئی۔


ذبیح اللہ نے کہا کہ وادی پنجشیر پر کنٹرول حاصل کرنے کے دوران شہریوں کی ہلاکتیں نہیں ہوئیں، پنجشیر میں آج سے انٹرنیٹ اور بجلی بحال ہو جائے گی۔افغانستان کے سابق نائب صدر امر اللہ صالح کے حوالے سے بات کرتے ہوئے طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ امراللہ صالح تاجکستان فرار ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امر اللہ صالح کے افغانستان سے فرار کی خبریں سامنے آئی تھیں لیکن سابق افغان نائب صدر نے سوشل میڈیا پر ویڈیو بیان جاری کر کے اس قسم کی خبروں کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے طالبان کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ حملہ آور کبھی بھی ہمارے ملک کی تعمیر نو نہیں کریں گے، ہمارے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود ملک کی تعمیر نو میں اپنا کردار ادا کریں۔


ترجمان طالبان کا کہنا تھا کہ کابل ائیر پورٹ سے بین الاقوامی پروازیں جلد شروع کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں، قطر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کی کمپنیاں کابل ائیرپورٹ کی دوبارہ بحالی کے لییکام کررہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ جلد منظر عام پر آئیں گے۔

طالبان کے ترجمان نے پریس کانفرنس کے دوران یہ درخواست بھی کی کہ افغانستان کی سابق افواج نئی حکومت کے ساتھ شامل ہو جائیں اور ملکی سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہاکہ طالبان بغاوت کے معاملے میں انتہائی حساس ہیں اور حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کی بغاوت کو سختی سے کچل دیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ایک عبوری حکومت تشکیل دی جائے گی، حکومت کے حوالے سے فیصلے ہو چکے ہیں لیکن کچھ تکنیکی معاملات پر کام ہو رہا ہے، تکنیکی معاملات حل ہوتے ہی نئی حکومت کا اعلان کر دیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔