جمہوریہ کانگو میں ایبولا کا قہر جاری، 1528 کیسز آئے سامنے، 492 لوگوں کی موت

افریقہ کے لیے ڈبلیو ایچ او کے علاقائی ڈائریکٹر محمد یعقوب جنابی نے کہا کہ ’’صورتحال بدستور سنگین بنی ہوئی ہے اور مشرقی صوبوں اتوری اور نارتھ کیوو میں انفیکشن پھیل رہا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ایبولا، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا کے 1528 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں 492 اموات شامل ہیں، کیونکہ ملک میں اس بیماری کا پھیلاؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ڈی آر سی کے پبلک ہیلتھ حکام کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 239 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں، جبکہ 628 تصدیق شدہ مریض اب بھی آئیسولیشن میں ہیں یا اسپتال میں داخل ہیں۔ ’سنہوا‘ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حکام نے 185 مشتبہ کیسز کی بھی نشان دہی کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر ہفتے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ وبائی امراض کے اعداد و شمار کے لحاظ سے 25ویں اور 26ویں ہفتے میں سب سے زیادہ کیسز درج کیے گئے۔ دونوں ہفتوں میں 300 سے زیادہ کیسز سامنے آئے، جو کمیونٹی ٹرانسمیشن (کمیونٹی کی سطح پر انفیکشن پھیلنے) کے جاری رہنے کا اشارہ ہے۔


رپورٹ میں کئی بڑی چیلنجوں کا ذکر کیا گیا ہے، جیسے کہ پوسٹ مارٹم کے لیے نمونے لینے کی کمیونٹی کی جانب سے مخالفت، ایبولا کے علاج کے مراکز میں گنجائش کی کمی (خاص طور پر مشرقی صوبے نارتھ کیوو میں)، کانٹیکٹ ٹریسنگ (متاثرہ افراد کے رابطے میں آنے والوں کا پتہ لگانا) ٹھیک سے نہ ہو پانا، لیب ٹیسٹنگ میں تاخیر، طبی اور انفیکشن سے بچاؤ کے سامان کی کمی، بدامنی اور کچھ متاثرہ علاقوں تک محدود رسائی۔ ایک آن لائن میڈیا بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوئے افریقہ کے لیے ڈبلیو ایچ او کے علاقائی ڈائریکٹر محمد یعقوب جنابی نے کہا کہ صورتحال بدستور سنگین بنی ہوئی ہے اور مشرقی صوبوں اتوری اور نارتھ کیوو میں انفیکشن پھیل رہا ہے۔ نیوز ایجنسی ’سنہوا‘ کی رپورٹ کے مطابق جنابی نے کہا کہ موجودہ وبا اب تک بونڈی بوگیو ایبولا کی سب سے بڑی وبا ہے۔

ڈی آر سی میں ڈبلیو ایچ او کے ماہر پیئر اکیلی   مالی نے کہا کہ یہ وبا ان علاقوں میں پھیل رہی ہے جو بدامنی اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں سے متاثر ہیں، جس کی وجہ سے کیسز کا پتہ لگانا اور کانٹیکٹ ٹریسنگ کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ اتوری کے کچھ متاثرہ علاقے مائننگ زون ہیں، جہاں باہر سے لوگوں کی مسلسل آمد و رفت کی وجہ سے وائرس پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے جمعرات کو بتایا کہ ڈی آر سی میں بونڈی بوگیو وائرس سے ہونے والے ایبولا کے ممکنہ علاج کا جائزہ لینے کے لیے مریضوں پر مشتمل ایک کلینیکل ٹرائل شروع کیا گیا ہے۔ اس وائرس کے لیے اب تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں ہے۔


اس درمیان یوگانڈا میں ڈبلیو ایچ او کے ماہر بنجامن سینسایسی نے کہا کہ جمعرات تک ملک میں 20 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں سے 15 کیسز باہر سے آنے والے لوگوں کے ہیں۔ باقی 5 مقامی طور پر متاثرہ افراد کی شناخت قرنطینہ کے دوران ہوئی ہے اور کمیونٹی میں انفیکشن پھیلنے کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا۔ سینسایسی نے بتایا کہ یوگانڈا اور ڈی آر سی نے سرحد پار مشترکہ جوابی طریقہ کار قائم کیا ہے اور ایک مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک نگرانی سے متعلق معلومات کا تبادلہ کریں گے اور سرحدی علاقوں میں اسکریننگ اور علاج کی صلاحیت کو مضبوط بنائیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔