ایبولا بحران: ڈبلیو ایچ او کی ممالک سے سرحدی بندشیں اور سفری پابندیاں ہٹانے کی اپیل

ٹیڈروس نے کہا کہ ’’میں ان ممالک سے اپیل کرتا ہوں جنہوں نے سفری اور سرحدی پابندیاں عائد کی ہیں کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ ایسے اقدامات بیماری سے لڑنے کی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ایبولا، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے ان ممالک کو اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی ہے، جنہوں نے جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) اور یوگانڈا میں پھیلے ایبولا کی وجہ سے سفری پابندیاں عائد کی ہیں یا اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں۔ نیوز ایجنسی ’سنہوا‘ کے مطابق ہفتہ (30 مئی) کو اتوری صوبہ کی راجدھانی بونیا میں منعقدہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹیڈروس نے کہا کہ ’’ایسی پابندیاں امدادی اور بچاؤ کی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا سکتی ہیں۔ اس سے لوگوں میں شفافیت اور اعتماد کم ہو سکتا ہے، جبکہ جان بچانے کے لیے یہ سب سے زیادہ ضروری ہے۔‘‘ واضح رہے کہ بونیا اس وقت ایبولا کی وبا کا مرکز بنا ہوا ہے۔

ٹیڈروس نے مزید کہا کہ ’’میں ان ممالک سے اپیل کرتا ہوں جنہوں نے سفری پابندیاں عائد کی ہیں یا سرحدیں بند کی ہیں کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ ایسے اقدامات بیماری سے لڑنے کی کوششوں کو مشکل بنا دیتے ہیں اور لوگوں میں شفافیت اور اعتماد کو کم کرتے ہیں، جبکہ یہی چیزیں لوگوں کی جان بچانے میں مدد کرتی ہیں۔‘‘ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کے مطابق اگرچہ ابھی اس بیماری کے لیے کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص دوا دستیاب نہیں ہے، لیکن اگر مریضوں کو بروقت اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں تو ان کے صحت یاب ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔


ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے یہ بھی بتایا کہ بونیا کے ان کے دورے کا ایک خاص مقصد اس وبا سے متاثرہ برادریوں سے براہ راست ملنا اور ان کی صورتحال کو سمجھنا بھی ہے۔ اس وبا میں اب تک ایک ہزار سے زائد مشتبہ معاملات سامنے آ چکے ہیں۔ دوسری جانب یوگانڈا میں بھی 9 معاملوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ یوگانڈا کی وزارت صحت نے جمعہ (29 مئی) کو بتایا کہ راجدھانی کمپالا میں انفیکشن کے 2 نئے معاملات پائے گئے ہیں۔

ڈی آر سی کے وزیر صحت روزر کمبا نے کہا کہ ملک کا ہدف ہے کہ بہترین صورتحال میں اس وبا کو 4 سے 6 ماہ کے اندر کنٹرول کر کے ختم کر دیا جائے۔ یہ اندازہ ملک کے وبائی امراض پر قابو پانے کے گزشتہ تجربے اور ایبولا وائرس کی نوعیت کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ فی الحال سب سے بڑی ترجیح وائرس کو 3 متاثرہ صوبوں اتوری، نارتھ کیوو اور ساؤتھ کیوو تک محدود رکھنا اور اسے آگے پھیلنے سے روکنا ہے۔


وزیر صحت روزر کمبا نے یہ بھی کہا کہ ملک کی لیب ٹیسٹنگ کی صلاحیت پہلے سے کافی مضبوط ہو چکی ہے اور اب کسی بھی نمونے کی جانچ باقی نہیں ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 900 نمونوں کی جانچ کی گئی ہے، جن میں سے تقریباً 260 مثبت پائے گئے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اب ملک کے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ وہ آنے والے تمام نمونوں کی جانچ کر سکتا ہے، خواہ روزانہ ٹیسٹ کی تعداد بڑھ کر 200 یا 300 نمونوں تک ہی کیوں نہ پہنچ جائے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔